Follow one, respect all
الرسالہ، اگست ۲۰۰۰، صفحہ ۴۳
جواب
برادران وطن کے اندر اونچی ذات اور نیچی ذات کی جو تقسیم ہے وہ ان کے مذہبی عقیدہ کی بنیاد پر قائم ہے، اس کو ورن آشرم کہا جاتا ہے۔ اس حقیقت کا اعتراف خود ہندوؤں کے بڑے بڑے اہل علم نے کیا ہے، مثال کے طور پر دادا صاحب کا لیکر۔ اس کے برعکس مسلمانوں میں آج جو تفریق نظر آتی ہے وہ ایک عملی تفریق ہے۔ وہ مسلمانوں کے اپنے قومی تنزل کے سبب سے وجود میں آئی ہے۔ اس صورت حال کی ذمہ داری مسلمانوں پر ہے نہ کہ اسلام پر۔ مسلمانوں کی موجودہ تفریق کو مسلمانوں کی اصلاح کے ذریعہ ختم کیا جا سکتا ہے مگر برادران وطن کے درمیان جو تفریق ہے وہ اس وقت ختم ہو گی جب کہ خود ان کے مذہب میں ریفارم لایا جائے۔ سوال میں ڈاکٹری کی تعلیم حاصل کر رہا ہوں۔ آپ کی تحریروں کو پڑھ کر میرے اندر یہ جذبہ پیدا ہوا ہے کہ میں دعوت کا کام کروں۔ میری آرزو ہے کہ اپنی ڈگری لینے کے بعد میں کسی ایسے جامعہ میں داخل ہو جاؤں جو اس دور کی تمام ضروریات کو پورا کرتا ہو۔ اور لوگوں کو تذکیر و تبلیغ کا فریضہ ادا کرنے کے قابل بناتا ہو۔ (محمد سعید - پاکستان)
جواب
دعوت کو اپنی زندگی کا مقصد بنانے کا جذبہ بے حد قیمتی ہے۔ مگر پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک میں تعلیم و تربیت کا کوئی ایسا ادارہ موجود نہیں جو ایک آدمی کو داعی کامل بنائے۔ داعی خود اپنی کوششوں سے بنتا ہے نہ کہ کسی ادارہ کی تعلیم و تربیت سے۔ پاکستان میں دعوتی کام کے عظیم مواقع موجود تھے مگر وہاں کے اسلام پسند رہنماؤں کی ایک غلط فکر نے سارے امکان کو تباہ کر دیا۔ وہ فکر یہ کہ اسلامی دعوت کا کام اس وقت ہو سکتا ہے جب کہ یہاں اسلامی حکومت قائم ہو جائے۔ اس غلط سوچ نے پاکستان کی اسلامی تحریک کو عملاً سیاسی تخریب کے راستہ پر ڈال دیا۔ بہترین مواقع کے ہوتے ہوئے وہ کوئی مثبت دعوتی کام نہ کر سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2000 All issues