تقابل کا مسئلہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۵۲
تقابل کا مسئلہ
امریکہ کے ایک سفر میں میری ملاقات کچھ ایسے مسلمانوں سے ہوئی جو ہندوستان سے جاکر امریکہ میں آباد ہوگئے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ اپنے وطن کو چھوڑ کر یہاں کیوں چلے آئے ۔ ہرایک کا جواب یہ تھا کہ امریکہ میں ہمارے لئے پیس (امن) ہے، اور ہندوستان میں ہمارے لئے پیس نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ ادھوری بات ہے۔ پیس کا تعلق کسی ملک سے نہیں۔ بلکہ پیس کی ایک قیمت ہے، آپ جہاں بھی وہ قیمت ادا کریں، وہاں آپ کو پیس مل جائے گا۔ یہ قیمت ایڈ جسٹمنٹ ہے۔ پھر میں نے کہا کہ امریکہ میں بھی مسلمانوں کے لئے وہ تمام مسائل موجود ہیں جو ہندوستان میں ہیں۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ہندوستان میں وہ ان مسائل کو لے کر بے برداشت ہوجاتے ہیں۔ اور امریکہ میں ان مسائل کے اوپر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں ان کے لئے امن ہے اور ہندوستان میں ان کے لئے امن نہیں۔ میں نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لئے پرسنل لاء میں مداخلت کا مسئلہ ہے، ملازمتوں میں امتیاز کا مسئلہ ہے، درسی کتابوں میں غیر اسلامی مضامین کا مسئلہ ہے، مسجد کی بے حرمتی کا مسئلہ ہے، وغیرہ۔ یہ تمام مسائل امریکہ میں بھی پوری طرح موجود ہیں۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ ہندوستان میں ان چیزوں کو لے کر احتجاجی سیاست چلاتے ہیں اور امریکہ میں ان چیزوں کو نظر انداز کر کے رہتے ہیں۔ مسلمانوں کی روش میں اسی فرق نے بے امنی کا مسئلہ پیدا کیا ہے نہ کہ دو ملکوں کے فرق نے۔
اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح اکثر لوگ غلط تقابل میں مبتلا رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بیشتر فکری غلطیاں غلط تقابل کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ صحیح تقابل سے صحیح فکر بنتا ہے اور غلط تقابل سے غلط فکر۔ اس دنیا میں صحیح رائے صرف وہ لوگ قائم کر سکتے ہیں جو اس فکری حکمت کو جانیں۔ جو لوگ اس فکری حکمت سے محروم ہوں وہ صحیح رائے سے بھی محروم رہیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues