Al-Risala · January 2000 · page 51

Muslims' reservation and education

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۵۱

ہم چلتے ہوئے پونے آٹھ بجے صبح مودی نگر میں داخل ہوئے۔ یہ ایک صنعتی شہر ہے۔ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ سڑک کے دونوں طرف کئی کلومیٹر کی لمبائی میں آباد کیا گیا ہے۔ اس صنعتی شہر کو ملتانی مل مودی نے آباد کیا تھا۔ اس کے بعد گوجرمل مودی نے اس کو ترقی دی۔ یہاں سڑک کے دونوں طرف لڑکے اور لڑکیاں اسکول کا بیگ اپنی پیٹھوں پر لادے ہوئے چل رہے تھے۔ لڑکیوں کی تعداد نسبتاً زیادہ تھی۔ ان کے لباس اور ان کے حلیہ سے محسوس ہورہا تھا کہ وہ تقریباً سب کے سب پسماندہ طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

مودی نگر سے گزرتے ہوئے مجھے یہ غم ناک احساس ہوا کہ مسلمان زندگی کی سرگرمیوں سے دور ہوگئے ہیں۔ وہ اپنے مخصوص پاکٹ میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ مگر عمومی مراکز حیات میں ان کو تلاش کرنا مشکل ہے۔ میں نے اپنی آنکھ بند کرلی۔ پھر خیال آیا کہ میں نے جس طرح آنکھ بند کرلی ہے، اگر ڈرائیور اسی طرح اپنی آنکھیں بند کرلے تو اس کی گاڑی آگے کی سواری سے ٹکرا جائے گی۔ مسافر خواہ سورہا ہوں لیکن ڈرائیور کو جگنا پڑتا ہے، مسافر خواہ آنکھیں بند کرلے مگر ڈرائیور کے لئے اس کے سوا کوئی اور صورت نہیں کہ وہ اپنی دونوں آنکھیں کھلی رکھے۔ وہ ایک لمحہ کے لئے بھی غافل نہ ہو۔ ۲۴ اکتوبر کو ساڑھے نو بجے صبح میں دہلی واپس آگیا۔ دہلی سے مظفر نگر جاتے ہوئے ہم لوگ دو جگہ ٹھہرے تھے۔ چنانچہ وہاں پہنچنے میں چار گھنٹے لگ گئے ۔ واپسی میں مسلسل سفر کیا گیا ۔ اس لئے صرف ڈھائی گھنٹے میں ہم لوگ دہلی پہنچ گئے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues

Printed page