Al-Risala · January 2000 · page 54

تقابل کا مسئلہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۵۴

وقت آجائے گا جب کہ دشمن لوگ اسلام قبول کر کے اسلام کے قریبی مددگار بن جائیں (حم السجدہ ۴۳) جیسا کہ بعد کو عملاً پیش آیا۔ گویا حدیبیہ کے معاہدہ کا ایک پہلو وہ تھا جس کو ہر صاحب بصارت دیکھ رہا تھا۔ لیکن اس کا ایک اور اہم تر پہلو وہ تھا جس کو صرف صاحب بصیرت ہی دیکھ سکتا تھا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کیا گیا ہے: فعلم ما لم تعلموا تعلموا(الفتح ۲۷) یعنی اللہ نے وہ بات جانی جو تم نے نہیں جانی۔ اضافی قدر یا ریلیٹیو ویلو کو جاننے کی اہمیت یہ ہے کہ اکثر حالات میں یہی پہلو عملی اعتبار سے فیصلہ کن بن جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلم مفکرین کی سب سے بڑی کمی یہی ہے کہ وہ اس حکیمانہ بصیرت سے خالی تھے۔ وہ سامنے کی چیزوں کو دیکھ کر اقدامات کرتے رہے۔ وہ ان دوسرے پہلوؤں کو دیکھنے سے قاصر رہے جو آخر کار فیصلہ کن بننے والے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے تمام اقدامات نہ صرف بے نتیجہ رہے بلکہ وہ الٹا نتیجہ پیدا کرنے والے (counter productive) ثابت ہوئے۔ مثال کے طور پر مصر اور پاکستان اور ایران میں اسلام پسندوں کا یہ سمجھ لینا کہ ان کی معاصر حکومت تمام خرابیوں کی جڑ (source of all evils) ہے۔ اگر وہ کسی طرح موجودہ حکمرانوں کو اقتدار سے ہٹا دیں تو وہاں شاندار طور پر اسلامی نظام قائم ہو جائے گا۔ اسی طرح برصغیر ہند میں مسلم رہنماؤں نے یہ سمجھ لیا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جغرافی تقسیم مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل ہے۔ ان تمام رہنماؤں کی مشترک کوتاہی یہ تھی کہ وہ صرف سامنے کی باتوں کو دیکھ سکے، وہ ان اضافی اسباب (relative factors) کو دیکھنے سے عاجز رہے جو آخر کار فیصلہ کن بن کر ان کی تمام خوش فہمیوں کو تہ و بالا کر دینے والے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان تمام رہنماؤں کی ہنگامہ خیز تحریکیں مسلمانوں کی تباہی میں اضافہ کے سوا کوئی اور نتیجہ پیدا نہ کر سکیں۔ اسی حقیقت کو حضرت عمر فاروق نے ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے کہ عقل مند وہ نہیں ہے جو شر کے مقابلہ میں خیر کو جانے۔ عقل مند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے کم تر شر کون سا ہے۔ (لیس العاقل الذی يعرف الخير من الشر و لكنه الذی يعرف خير الشرين)

‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues

Printed page