تقابل کا مسئلہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۵۵
سوال
الرساله مئی ۱۹۹۹ء پڑھا۔ اس میں ایک مضمون ”جنتی کون؟ “ کے عنوان سے ہے۔ اس میں آپ لکھتے ہیں کہ: جنتی انسان وہ ہے جس نے دنیا ہی میں آخرت کا تجربہ کیا۔ جس نے آخرت میں خدا کو براہ راست دیکھنے سے پہلے اسی دنیا میں اس کو بالواسطہ طور پر دیکھا۔ (صفحہ ۴) اس جملہ کی وضاحت مطلوب ہے۔ دنیا میں خدا کو بالواسطہ طور پر دیکھنے سے کیا مراد ہے۔ (عبدالسلام، جامعہ دارالسلام، عمر آباد) جواب ”خدا کو بالواسطہ دیکھنے“ سے مراد وہی چیز ہے جس کو حدیث میں تعبد اللہ کا نک تراہ (البخاری) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اسے دیکھ رہے ہو۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ میں نے صرف اس کو قابل فہم بنانے کے لئے نئے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ ایک ہے خدا کی ذات کو دیکھنا۔ دوسرا ہے خدا کی آیات اور آلاء کے ذریعہ خدا کو پہچاننا۔ پہلے معنی میں صرف آخرت میں کسی کو خدا کا مشاہدہ حاصل ہوگا۔ دوسرے معنی میں یہ تجربہ اسی دنیا میں گزرتا ہے۔ حدیث کے الفاظ میں، دنیا میں آدمی گویا کہ خدا کو دیکھتا ہے اور آخرت میں وہ خدا کو حقیقی طور پر دیکھے گا۔ پہلا دیکھنا بالواسطہ پر دیکھنا ہے، اور دوسرا دیکھنا براہ راست طور پر دیکھنا۔
سوال
قرآن نے سوچنے اور سمجھنے کی نسبت قلب کی طرف کی ہے۔ اور حالیہ سائنس کی تحقیقات یہ ہیں کہ یہ دونوں صلاحیتیں دماغ کی ہیں۔ دل (قلب) کی حیثیت ایک پمپ سے زیادہ نہیں۔ تو اس میں تطبیق کی صورت کیا ہوگی ؟ (ابرار احمد رفعت، سورت)
جواب
قرآن میں قلب کا لفظ حیاتیاتی اصطلاح کے طور نہیں آیا بلکہ اپنے ادبی استعمال کے طور پر آیا ہے۔ اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ دنیا کی تمام زبانوں میں آج بھی قلب کا لفظ اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے جس معنی میں وہ قرآن میں استعمال کیا گیا ہے معروف اصول کے مطابق، قرآن کی ان آیتوں
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues