تقابل کا مسئلہ
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۵۷
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب ہے کہ بندے کے اوپر اپنے رب کی نسبت سے دو مختلف قسم کی کیفیات طاری ہوں ۔ کبھی خوف کی کیفیت اور کبھی امید کی کیفیت ۔ یہ دو طرفہ کیفیات کسی بندہ کے اوپر صرف اسی وقت طاری ہوسکتی ہیں جب کہ وہ اس دنیا میں خوف کی حالت کا تجربہ کرے اور کبھی امید کی حالت کا ۔ چونکہ حالات کے بغیر کیفیات پیدانہیں ہوسکتیں اس لئے انسان کو بیک وقت جبر اور اختیار کے دو طرفہ نظام کے تحت اس دنیا میں رکھا گیا۔ سوال مجھے قرآن کے مطالعہ سے دلچسپی ہے۔ اس سلسلہ میں میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ قرآن فہمی کا اصول کیا ہے۔ (ایک قاری ، الرساله)
جواب
قرآن کے مطالعہ کے دو طریقے ہیں ۔ ایک ہے اس کا علمی اور فنی مطالعہ۔ اور دوسرا ہے قرآن کا تذکیری مطالعہ۔ اگر آپ قرآن کا علمی اور فنی مطالعہ کرنا چاہتے ہوں تو آپ کو بہت سے علوم میں گہری واقفیت پیدا کرنی ہوگی جن کی تعداد اہل تفسیر نے کئی درجن بتائی ہے۔ مگر اس قسم کا مطالعہ مخصوص علماء کا کام ہے۔ وہ عام انسان کی ضرورت نہیں۔ عام انسان جو قرآن کو سادہ طور پر سمجھنا چاہتا ہو اور اس کو پڑھ کر اپنی فکری اور عملی اصلاح کرنا چاہتا ہو، ایسے انسان کے لئے درجنوں علوم میں مہارت پیدا کرنا ضروری نہیں۔ ایسے آدمی کے لئے دو چیزیں کافی ہوسکتی ہیں۔ ایک یہ کہ وہ عربی زبان سے واقف ہو اور صالح نیت کے ساتھ قرآن کو پڑھے۔ تاہم اسی کے ساتھ اس کو مستند تفسیروں کا مطالعہ بھی ضرور کرنا چاہئے خاص طور سے عربی تفسیروں کا۔ ورنہ دوسری زبانوں میں لکھی ہوئی تفسیروں کا مطالعہ بھی اس کے لئے مفید ہوسکتا ہے۔ اس سلسلہ میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے ذہنی سانچے کے مطابق آیتوں کا مفہوم متعین نہ کرے بلکہ خود قرآن نیز حدیث کی روشنی میں اس کو سمجھنے کی کوشش کرے ۔ یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن کا درست مطالعہ آدمی کو ہدایت تک پہنچاتا ہے اور اس کا نادرست مطالعہ برعکس نتیجہ کا سبب بنتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues