Al-Risala · January 2000 · page 56

تقابل کا مسئلہ

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۰، صفحہ ۵۶

میں قلب کے لفظ کو اس کے ادبی مفہوم کے اعتبار سے لینا چاہیے نہ کہ اس کے حیاتیاتی مفہوم کے اعتبار سے۔ قلب کے لئے انگریزی میں ہارٹ (Heart) کا لفظ ہے۔ حیاتیاتی کتاب میں اس لفظ کی تشریح گردش خون کے مرکز کی حیثیت سے ملے گی۔ لیکن آپ انگریزی کی کوئی ڈکشنری دیکھیں تو اس میں درجنوں ایسے استعمال ملیں گے جن میں ہارٹ کو مرکز جذبات کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً With all one's heart یعنی بہت خوشی سے۔ شیکسپیئر کی ایک لائن اس طرح ہے: A good heart is worth gold اس معاملے کا تعلق صرف قلب سے نہیں ہے بلکہ دوسرے سیکڑوں الفاظ سے بھی ہے۔ ۔ مثلاًسن لائٹ اورمون لائٹ وغیرہ۔

سوال

تقدیر کیا ہے؟ انسان کا معاملہ تقدیر کے تحت ہے یا تدبیر کے تحت۔ اگر تقدیر کے تحت ہے تو اس کا مطلب ہے کہ انسان مجبور ہے۔ پھر انسان کا امتحان کیوں؟ اور اگر تدبیر کے تحت ہے تو سمجھ میں نہیں آتا، کیوں کہ بہت سے معاملات میں انسان اپنے آپ کو بے بس پاتا ہے۔ (محمد اسحاق، عمر آباد)

جواب

یہ معاملہ پیچیدہ اس لئے نظر آتا ہے کہ لوگ اس معاملہ میں ثنائی طرز فکر (Dichotomous thinking) کا شکار ہیں۔ یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ یا تو سارا معاملہ تقدیر پر مبنی ہے یا سارا معاملہ تدبیر پر۔ حالانکہ یہ معاملہ ففٹی ففٹی کا ہے۔ یعنی جزئی طور پر تقدیری اور جزئی طور پر تدبیری۔ ایسا اس لئے ہے کہ انسان موجودہ دنیا میں آزمائش کے لئے رکھا گیا ہے اور آزمائش کی مصلحت چاہتی ہے کہ ایسا ہی ہو۔ آدمی جب اپنے آپ کو مجبور محسوس کرے تو وہ عاجزانہ طور پر خدا کو پکارے اور جب وہ اپنے آپ کو آزاد پائے تو وہ خدا کی اس نعمت پر اس کا شکر ادا کرے۔ قرآن میں خدا کے مطلوب بندوں کی تعریف ان الفاظ میں کی گئی ہے: یدعون ربھم خوفاوطمعا(السجدہ۔ ۱۶)اسی (السجدہ - ١٦)۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ: الایمان بین الرجاء والخوف۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2000 All issues

Printed page