دعوتی ذمہ داری
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴
دعوتی ذمہ داری
پیغمبر اسلام ﷺ کی حیثیت داعی کی تھی، آپ کی تبعیت میں آپ کی امت کی حیثیت بھی داعی کی ہے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اے رسول، کہو کہ یہ میرا راستہ ہے۔ میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، سمجھ بوجھ کر، میں بھی اور وہ لوگ بھی جنہوں نے میری پیروی کی ہے (قل هذه سبیلی ادعوا الى ٱللَّهِۚ على بصيرة انا ومن اتبعنی) (یوسف ۱۰۸) رسول اللہ ﷺ پیغمبر ہونے کے ساتھ پیغمبر آخر الزماں بھی تھے۔ آپ آخری پیغمبر تھے۔ اس اعتبار سے آپ کی دعوتی ذمہ داری قیامت تک وسیع تھی۔ آپ کو قیامت تک پیدا ہونے والے تمام انسانوں کو توحید کی حقیقت سے باخبر کرنا تھا۔ مگر ایک عمر کو پہنچ کر رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی۔ اس لئے سوال ہے کہ اب یہ ذمہ داری کس کے اوپر ہے۔ اب یہ ذمہ داری امت محمدی پر ہے۔ امت محمدی کو آپ کی نیابت میں قیامت تک یہ فریضہ ادا کرنا ہے۔ حدیث میں ہے: مالی أمسك بحجزكم عن النار، الا وإنّ ربّی داعی وانه سائلنی هل بلغت عبادی۔ فاقول رب قد بلغت۔ الا فلیبلغ شاهدكم غائبكم (حياة الصحابه ۷/۱۷)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں تم لوگوں کی کمر پکڑ کر تم کو آگ سے بچاؤں۔ سن لو کہ میرا رب مجھے بلائے گا اور بے شک وہ مجھ سے سوال کرے گا۔ کیا تم نے میرے بندوں تک میرا پیغام پہنچادیا۔ میں کہوں گا کہ ہاں میرے رب، میں نے پہنچادیا۔ سن لو، تمہارا حاضر تمہارے غائب تک پہنچادے۔
اس حدیث کے مطابق، رسول اللہ ﷺ گویا اپنی امت کے ایک ایک فرد کو ہدایت دے رہے ہیں کہ میرے بعد تم قیامت تک میرے دعوتی مشن کو جاری رکھو، دوسرے لفظوں میں یہ کہ مجھے یہ موقع دو کہ میں اللہ تعالیٰ کے یہاں یہ کہہ سکوں کہ میں نے قیامت تک کے تمام لوگوں پر اپنی دعوتی ذمہ داری پوری کردی، اپنی حیات میں براہ راست طور پر، اور اپنی حیات کے بعد بالواسطہ طور پر۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues