Al-Risala · October 2000 · page 50

تنقید کا مسئلہ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۵۰

تنقید کا مسئلہ

ایک صاحب نے کہا کہ یں ماہنامہ الرسالہ پڑھتا ہوں ۔ مگر مجھے آپ کی تنقید پسند نہیں۔ آپ اکثر ہمارے اکابر پر تنقید کرتے ہیں۔ اس سے مجھے سخت تکلیف ہوتی ہے۔ آپ کا یہ تنقیدی طریقہ مجھے صحیح نظر نہیں آتا۔

میں نے کہا کہ کوئی مثال دیجئے ۔ انہوں نے الرسالہ کے ایک شمارہ کا ایک مضمون بطور مثال بتایا۔ اس میں ایک بزرگ کے ایمان واخلاص کا اعتراف کرتے ہوئے یہ تنقید کی گئی تھی کہ انہوں نے موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو جو عملی رہنمائی دی اس میں جدید حالات کی رعایت شامل نہ تھی۔

میں نے کہا کہ یہ تو کوئی قابل اعتراض بات نہیں۔ آپ کو الرسالہ کی تنقید پر اعتراض کرنے کے بجائے خود اپنے طریق فکر پر نظر ثانی کرنا چاہئے۔ کیوں کہ اس قسم کی تنقید میں تو عین شریعت کے مطابق ہیں۔ ساری اسلامی تاریخ میں کبھی بھی اس قسم کی تنقید کو برا نہیں سمجھا گیا۔ الرسالہ میں کبھی کسی شخصیت کے ایمان واخلاص کو زیر بحث نہیں لایا جاتا۔ ابن میں ہمیشہ زمانہ کی نسبت سے فکری نہج یا عملی تدبیر پر نقد کیا جاتا ہے۔ اور اس قسم کی تنقید کو کبھی امت میں نادرست نہیں کہا گیا۔ علماءِ اسلام کے یہاں یہ ایک معروف اور مسلم بات ہے کہ جب ایمان و اخلاص کو زیر بحث لائے بغیر صرف فکری نہج اور عملی تدبیر پر نقد کیا جائے تو اس کا مطلب صرف زیر تنقید شخص کی اجتہادی خطا کی نشان دہی ہوتا ہے۔ اور اجتہادی خطا ایسی چیز ہے جو ہر شخص سے ہو سکتی ہے، حتی کہ اصحاب رسول سے بھی ، جیسا کہ تاریخ کی کتابوں سے ثابت ہوتا ہے۔ پھر ایسی تنقید پر پر اہم ہونے کی کیا ضرورت نہ ہے ۔

تنقید کی اصل اختلاف رائے ہے، اور اختلاف رائے ایک عظیم رحمت ہے ۔ جس قوم میں اختلاف رائے کا ماحول نہ ہو، اس کے درمیان فکری ارتقاء کا عمل رک جائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues

Printed page