Al-Risala · October 2000 · page 15

مشتے بعد از جنگ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۱۵

مشتے بعد از جنگ

دو پہلوانوں کے درمیان کشتی ہو۔ ان میں سے ایک دوسرے کو پچھاڑ کر اس کے اوپر بیٹھ جائے، اس کے بعد ہارا ہوا آدمی اپنے ہاتھ سے جیتے ہوئے پہلوان کو مارنا چاہے تو اس کو فارسی میں مشتے بعد از جنگ کہا جاتا ہے۔ اس قسم کا فعل سرا سر احمقانہ ہے، کسی بھی درجہ میں اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ جب نزاع پیدا ہو تو اس کے ابتدائی مرحلہ میں وہ وقت ہوتا ہے جب کہ فیصلہ آپ کے اختیار میں ہو۔ اگر آپ نے کسی جھوٹے بھرم میں پڑ کر اس وقت کو کھو دیا تو اس کے بعد آپ کے لئے صرف یہ ہے کہ جو کچھ ہو گیا ہے اس کو صبر و تحمل کے ساتھ گوارا کریں۔ فیصلہ کا وقت گزر جانے کے بعد جنگ کو جاری رکھنا صرف اپنے نقصان میں اضافہ کرنا ہے۔ اس قسم کی کوشش مشتے بعد از جنگ ہے۔ وہ کسی بھی درجہ میں کسی کے لئے نیا مستقبل پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ موجودہ دنیا میں جو واقعات ہوتے ہیں وہ بے شمار عوامل کے تحت ہوتے ہیں۔ طرح طرح کے معلوم اور نا معلوم اسباب یکجا ہوتے ہیں، اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی واقعہ ظہور پذیر ہو سکے۔ فطرت کا یہ قانون جس طرح بقیہ دنیا میں کار فرما ہے اسی طرح وہ انسانی زندگی میں بھی کام کر رہا ہے۔

نزاع کے ابتدائی مرحلہ میں فیصلہ کا اپنے اختیار میں ہونا بہت سے اسباب کی بنا پر ہوتا ہے۔ مختلف اسباب کی یکجائی اس کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے حق میں ایک مفید فیصلہ لے سکے۔ لیکن اگر وہ بروقت فیصلہ کرنے میں ناکام رہا تو یہ اسباب بہت جلد منتشر ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ حالات کا سر آدمی کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ ایسی حالت میں بہترین عقلمندی یہ ہے کہ آدمی صابرانہ روش اختیار کر کے آنے والے وقت کا انتظار کرے جب کہ دوبارہ ایسے اسباب اکٹھا ہوں جو اس کو از سر نو اپنا مطلوب فیصلہ لینے کا موقع دے سکیں۔ فیصلہ کے وقت چوک جانا اگر غلطی ہے تو مشتے بعد از جنگ غلطی پر دیوانگی کا اضافہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues

Printed page