Al-Risala · October 2000 · page 16

علمی جہاد

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۱۶

علمی جہاد

رسول اللہ ﷺ کا ایک ارشاد الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ حدیث کی کتابوں میں نقل کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، آپ نے فرمایا کہ میری امت میں برابر ایک گروہ موجود رہے گا جو حق کے لئے قتال کرے گا۔ اس حدیث میں بظاہر قتال کا لفظ ہے۔ مگر امام بخاری (۲۵۶ - (۲۵۶۔ ۱۹۴ھ) نے اس کو جنگ کے معنیٰ میں نہیں لیا ہے بلکہ علمی جہاد کے معنیٰ میں لیا ہے۔ اس حدیث کو امام بخاری نے جس باب کے تحت نقل کیا ہے اس کا عنوان (ترجمہ باب) انہوں نے ان الفاظ میں قائم کیا ہے: باب قول النبي صلى الله عليه وسلم لا تزال طائفة من امتی ظاهرین علی الحق يقاتلون و هم اهل العلم - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے بیان میں کہ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ حق پر قائم رہتے ہوئے قتال کرے گا، اور اس سے مراد علم والے ہیں۔ (کتاب الاعتصام)۔ امام بخاری کے اس ترجمہ باب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس حدیث میں "قتال" کو اس کے لفظی معنیٰ میں نہیں لے رہے ہیں۔ بلکہ حقیقی معنیٰ میں لے رہے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ اس سے مراد علمی مجاہدین ہیں، یعنی وہ لوگ جو علم کی راہ سے اللہ کے دین کی خدمت کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مستقل اور مسلسل جاری رہنے والی چیز علمی جہاد ہی ہے۔ قتال مسلسل جاری رہنے والی چیز نہیں۔ چنانچہ ابو بکر الجصاص رازی حنفی (م ۳۷۰ھ) نے لکھا ہے کہ علمی جہاد اصل ہے اور جسمانی یا عسکری جہاد صرف ایک شاخ ہے (فجهاد العلم اصل و جهاد النفس فرع، احكام القرآن، جلد ۳، صفحه ۱۱۹)

علمی جہاد کی سب سے بڑی شکل یہ ہے کہ دلائل کے ذریعہ اسلام کی حجت لوگوں کے اوپر قائم کی جائے۔ اس کے خلاف علمی اعتراضات کو اعلیٰ علمی سطح پر رد کیا جائے۔ اسلام کو ایک فکری اور نظریاتی قوت کی حیثیت سے دنیا کے سامنے لایا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues

Printed page