Al-Risala · October 2000 · page 19

بہار کا سفر

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۱۹

بہار کا سفر

مدرسہ صدیقیہ، سرسیا (چمپارتن) کی دعوت پر بہار کا سفر ہوا۔ ۲۷۵ مئی ۲۰۰۰ء کو میں دہلی سے پٹنہ پہنچا اور ۲ مئی ۲۰۰۰ء کو دہلی واپسی ہوئی۔ اس سفر میں بہت سے تجربات و مشاہدات پیش آئے ان کا مختصر حال یہاں لکھا جاتا ہے۔

۲۵ مئی کو صبح ۹ بجے گھر سے روانگی ہوئی۔ دہلی کی سڑکوں پر وہی مانوس مناظر تھے۔ ایرپورٹ پہنچاتو پہلی خوش کن خبر یہ ملی کہ جہاز (انڈین ایرلائنس ۸۰۹۱) ٹھیک ٹائم پر ہے۔ مگر بعد کو اعلان ہوا کہ جہاز کی روانگی میں کچھ تاخیر ہے۔ یہ تاخیر بڑھتی رہی یہاں تک کہ وہ ایک گھنٹہ لیٹ ہو کر ساڑھے گیارہ بجے دہلی سے روانہ ہوا۔

اصل یہ ہے کہ انڈین ایرلائنس کے پاس اس وقت صرف ۵۵ جہاز ہیں اور تقریبا سب کے سب پرانے ہو چکے ہیں۔ ان جہازوں میں ہر روز مرمت کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں ایک جہاز زیادہ سے زیادہ ۱۰ سال تک چلایا جاتا ہے مگر ہندوستان میں اس کی کوئی حد نہیں۔ کیوں کہ نیا جہاز خریدنے کے لئے کثیر زرمبادلہ درکار ہے۔ مگر زر مبادلہ کی کمی کا سبب کسی بھی درجہ میں یہ نہیں ہے کہ ہمارا ملک غریب ہے۔ اس کا واحد سبب کرپشن ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ یہ صورت حال کب تک باقی رہے گی۔

جہاز میں میرے قریب کی سیٹ پر ایک بھاری بھر کم آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپناسیلولرٹیلی فون غالباً اپنے گھر سے ملایا اور کہا: میں دہلی سے بول رہا ہوں۔ ایسا ہے کہ یہ فلائٹ پہلے رانچی جائے گی اور پھر پٹنہ آئے گی۔ پٹنہ پہنچنے کا وقت ۲ بجے ہے۔ یہ سن کر میں نے سوچا کہ آج کے زمانہ میں اور قدیم زمانہ میں کتنا فرق ہے۔ قدیم زمانہ میں جب کوئی شخص سفر کرتا تھا تو اس کی خبر اس کے گھر والوں کو صرف اس وقت ملتی تھی جب کہ وہ وہاں پہنچ گیا۔ ہو۔ ا ب یہ ممکن ہو گیا ہے کہ خواہ آپ دنیا کے کسی بھی حصہ میں ہوں جدید مواصلاتی ذرائع کو استعمال کر کے منٹوں اور

‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues

Printed page