Al-Risala · October 2000 · page 20

Forts, Legacies of the past.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۰

سیکنڈوں میں زمین کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک اپنی خبر پہنچا سکتے ہیں۔ جہاز کے اندر پڑھنے کے لئے آج کے اخبارات کے علاوہ انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ میگزین سو اگت (مئی 2000) موجود تھا۔ اس کو اٹھایا تو اس کی کور اسٹوری ہندوستان کے قلعوں کے بارے میں تھی۔ اس کا عنوان تھا:

Forts, Legacies of the past.

اس با تصویر مضمون میں ہندوستان کے مختلف قلعوں کی رنگین تصویریں تھیں۔ ان میں سب سے زیادہ نمایاں تصویر دہلی کے لال قلعہ کی تھی جس کو شاہ جہاں نے بنوایا تھا۔ جیسا کہ معلوم ہے، دہلی کے لال قلعہ سے تھوڑی دوری پر یہاں کی جامع مسجد واقع ہے۔ دونوں کا جائے وقوع اس طرح ہے کہ جب قلعہ کی تصویر لی جاتی ہے تو اس کے فوکس میں جامع مسجد نمایاں طور پر دکھائی دینے لگتی ہے۔ چنانچہ سو اگت کی موجودہ تصویر میں بھی ایسا ہی تھا۔ اس کو دیکھ کر مجھے مسلمانوں کا وہ دور یاد آگیا جو پانچ سو سال پہلے دنیا میں موجود تھا۔ اس وقت مسلمان زندگی کے مختلف شعبوں میں اس طرح چھائے ہوئے تھے کہ جدھر سے بھی دیکھا جائے ان کا فوکس میں آنا لازمی تھا۔ مثلاً علم الحساب کی بات ہو تو فورا عربی ہندسہ (Arabic Numerals) کا تذکرہ سامنے آ جائے گا۔ علم جغرافیہ کا چرچہ ہو تو الادریسی کا نام سامنے آ جائے گا جس نے یورپ کے ایک بادشاہ کے لئے پہلا عالمی نقشہ بنایا تھا۔ بحری جہاز رانی کا تذکرہ ہو تو ملا ح ماجد کا نام سامنے آ جاتا ہے جس نے واسکوڈی گاما کے لمبے سفر میں اس کی رہنمائی کی تھی۔ طرز تعمیر کا ذکر ہو تو تاج محل کا نام فوراً سامنے آ جاتا ہے جو اپنے زمانہ کے لحاظ سے ایک تعمیری چھلانگ کی حیثیت رکھتا تھا۔ علم طب کا تذکرہ ہو تو فوراً ان مسلم حکماء کا نام سامنے آ جائے گا جنہوں نے تاریخ میں سب سے پہلے آپریشن کا طریقہ ایجاد کیا۔ علم افلاک کا تذکرہ ہو تو ان مسلمانوں کا نام سامنے آ جاتا ہے جنہوں نے تاریخ کی سب سے پہلی رصد گاہ بنائی۔

علم تاریخ کا ذکر کیا جائے تو فورا ابن خلدون کا نام سامنے آ جاتا ہے جس نے فن تاریخ کو

‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues

Printed page