Al-Risala · February 2000 · page

جہاد اکبر

الرسالہ، فروری ۲۰۰۰

حقیقت پسندی

خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق کا ایک قول ہے: ليس العاقل الذى يعرف الخير من الشر و لكنه الذى يعرف خير الشرين ( العبقريات الاسلامية، ص ۵۰۵) یعنی دانش مند وہ نہیں ہے جو شر کے مقابلہ میں خیر کو جانے۔ بلکہ دانش مند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے بہتر شر کون سا ہے۔

اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ ایک فرد اور دوسرے فرد یا ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے درمیان نزاعات پیدا ہوتے ہیں۔ ایک اور دوسرے کے درمیان اختلافات ظہور میں آتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ہمیشہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ معاملہ کو طے کرنے کی صورت کیا ہو۔ وہ کون سا رہنما اصول ہے جس کی روشنی میں باہمی نزاعات کو طے کیا جائے۔

ایسے موقع پر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگ معاملہ کو خیر اور شر یا انصاف اور بے انصافی کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کے حصے میں شر نہ آئے بلکہ خیر آئے۔ وہ اپنے آپ کو بے انصافی سے بچائیں اور جو انصاف ہے اس کو حاصل کریں۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس قسم کے لوگ اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہتے ہیں۔ ساری کوشش کے باوجود آخر میں انھیں شکایت اور نقصان کے سوا کچھ اور نہیں ملتا۔

اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں کوئی بھی شخص اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ نہیں لے سکتا۔ اس طرح کے معاملہ میں ہر نزاع کے دو فریق ہوتے ہیں۔ کسی بھی فیصلہ کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ ایک فریق کے ساتھ دوسرا فریق بھی اس پر راضی ہو۔ ایک فریق جس چیز کو خیر یا انصاف سمجھتا ہو، اگر دوسرا فریق اس کو تسلیم کرنے پر راضی نہ ہو تو اس کا نتیجہ دو طرفہ ٹکراؤ ہوگا۔ اور ٹکراؤ ہمیشہ مسئلہ کو بڑھانے والا ہوتا ہے نہ کہ اس کو گھٹانے والا۔ ایسی حالت میں دانش مندی کا تقاضا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ معاملہ کو خیر اور شر یا انصاف اور بے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues

Printed page