جہاد اکبر
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰
انصافی کی نظر سے نہ دیکھا جائے بلکہ اس کو ممکن اور ناممکن کی نظر سے دیکھا جائے ۔ پھر جو چیز عملی طور پر ممکن ہے اس کو لیا جائے اور جو چیز عملی طور پر ناممکن ہے اس کو چھوڑ دیا جائے۔ اس معاملہ کی ایک تاریخی مثال یہ ہے کہ بیسویں صدی عیسوی کے وسط میں عربوں اور یہودیوں کے درمیان فلسطین کے مسئلہ پر نزاع پیدا ہوئی جو اس کے بعد پچاس برس تک چلتی رہی۔ یہودیوں کا یہ کہنا تھا کہ دو فریقوں کے درمیان امن کا معاہدہ ہو جائے۔ لیکن عرب اس کے لیے تیار نہ تھے۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ امن صرف عدل کی بنیاد پر ہو سکتا ہے، عدل نہیں تو امن بھی نہیں۔ مگر بے شمار قربانیوں کے باوجود عربوں کا یہ نظریہ فیل ہو گیا اور بیسویں صدی کے آخر میں انھوں نے عدل کی شرط کو پس پشت ڈال کر صرف امن کے مقصد کے تحت اسرائیل سے معاہدہ کر لیا۔
نظری طور پر یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ جب دو فریقوں میں نزاع کی صورت پیدا ہو جائے تو ان کے درمیان امن کا قیام عدل کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ آئیڈیلزم کے اعتبار سے یہ نظریہ بہت اچھا ہے مگر عملی اسباب بتاتے ہیں کہ اس قسم کا آئیڈیل کبھی قابل حصول نہیں ہوتا۔ اس طرح کے نزاعی معاملات میں دانش مندی یہ ہے کہ آدمی نظری انصاف پر اصرار نہ کرے بلکہ عملی انصاف پر راضی ہو جائے۔
اصل یہ ہے کہ امن اور انصاف کو ایک دوسرے کے ساتھ بریکٹ کرنا بجائے خود غلط ہے۔ اس دنیا میں امن انصاف کے لیے نہیں ہوتا۔ امن کا تعلق مواقع کار سے ہے، نہ کہ عدل و انصاف سے۔ امن اس لیے حاصل نہیں کیا جاتا کہ اس کے ساتھ انصاف حاصل ہو جائے۔ بلکہ امن اس لیے قائم کیا جاتا ہے تا کہ وہ مواقع کار حاصل ہوں جن کو استعمال کر کے عدل و انصاف تک پہنچا جا سکے۔ مثال کے طور پر ۱۹۴۸ میں فلسطین کی جو صورتحال تھی اس میں عربوں کو فلسطین کا بیشتر حصہ ملا ہوا تھا۔ اس وقت دانش مندانہ پالیسی یہ تھی کہ اس صورتحال کو قبول کر کے یہودیوں سے وہ صلح کرلی جائے جو پچاس برس بعد کی گئی۔ اگر ایسا کیا جاتا تو اس کا زبردست فائدہ ہوتا۔ اس طرح عربوں کے لیے ممکن تھا کہ وہ امن قائم کر کے اپنے تعمیر و استحکام کی جدوجہد شروع کر دیں۔ پچھلے پچاس برس میں
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues