Al-Risala · October 2000 · page 38

Personally I have no problem.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۸

اور کچھ تفسیر بھی۔ مگر تذکیر القرآن کو پڑھ کر مجھے لگا کہ میں نے ابھی تک قرآن کو پڑھا ہی نہ تھا۔ اب مجھے قرآن ملا ہے، قرآن کو میں نے اب پایا ہے (جیسا کہ قرآن میں ہے کہ قرآن کو تذکیر و نصیحت کے لئے اتارا گیا ہے)۔ میرے تیا شہر میں کئی جگہ عورتوں کا اجتماع ہوتا ہے۔ جو مختلف دینی حلقوں کی طرف سے ہوتا ہے۔ میں ہر ایک سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہوں۔ میرے گھر میں تقریباً سب لوگ (امی، ابا، دادی) آپ کا رسالہ پڑھتے ہیں۔ اس سے پہلے وہ دوسری کتابیں پڑھتے تھے۔ مگر آج انہوں نے کہا کہ جب سے الرسالہ پڑھ رہا ہوں اب دوسری کتابوں میں دل نہیں لگتا۔ میری دادی ہر وقت آپ کے الرسالہ وہ دیگر کتابوں کو پڑھتی رہتی ہیں۔ کل انہوں نے مئی ۱۹۹۷ کے الرسالہ کا پونہ کا سفر پڑھاتو آپ کے لئے دعا کی کہ "اللہ ان کو اور لمبی حیات دے تاکہ دنیا کو سبق پڑھائیں۔ ایسا شخص ہم نے پوری صدی میں نہ دیکھا“۔ آپ ہم سب کے لئے خدا سے دعا کریں۔ میری خواہش ہے کہ میرا گھر، میرا خاندان بلکہ میرا پورا علاقہ وشہر دعوتی مشن سے وابستہ ہو جائے۔ اگر آپ اس کے لئے کوئی قیمتی رائے عطا کریں تو مجھے اس سے محروم نہ کریں۔ (صوفیہ حیدر، بتیا، بہار)

پٹنہ سے میں الائنس کے جس جہاز پر ۲۷ مئی کو دہلی آیا تھا، یہ وہی جہاز تھا جو بعد کو ۱۷ جولائی کو پٹنہ میں اترتے ہوئے حادثہ کا شکار ہو گیا اور ائیر پورٹ کے قریب گر پڑا۔ اس کے بیشتر مسافر جل کر مرگئے۔ اس حادثہ پر پٹنہ کے ایک ہندی اخبار نے اپنی رپورٹ چھاپتے ہوئے یہ سرخی لگائی تھی "منزل قریب تھی اور موت نے دستک دے دی"۔

یہ حادثہ جو مذکورہ جہاز کے مسافروں کے ساتھ پیش آیا، جلد یا بدیر یہی انجام سارے انسانوں کے لئے مقدر ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی ہر آن اس اندیشہ سے دوچار ہے کہ اس کی سواری اچانک مسافر سمیت تباہ ہو جائے، خواہ وہ بظاہر اپنی منزل کے عین قریب پہنچ گیا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues

Printed page