Personally I have no problem.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۷
ایک عیسائی مشنری اسکول کے ایک پادری کو جو آکسفورڈ سے تھا۔ اسگریزی میں ایم۔ اے تھے، الرسالہ انگریزی دو سال تک پڑھایا۔ اسے پڑھنے کے بعد وہ آپ سے بہت متاثر نظر آئے اور الرسالہ کی بہت تعریف کی۔ اس طرح سے میں نے بہت سے غیر مسلم تعلیم یافتہ لوگوں کو الرسالہ کی مطبوعات تحفہً پڑھنے کو دیں اور اچھا feed back پایا۔ “ بہار سے ملنے والے خطوط میں سے ایک اور خط ایک مسلم خاتون صوفیہ حیدر صاحبہ کا تھا۔ ان کے کچھ حصے یہاں نقل کئے جاتے ہیں۔
آپ کا خط مورخہ ۲۳ جون مجھے مل چکا ہے جو کہ صرف ایک خط نہیں ہے بلکہ میرے لئے ایک قیمتی نصیحت نامہ ہے۔ یہ کام بظاہر میں پہلے سے اور انجانے میں کر رہی تھی مگر اس نے میرے نظریہ میں اور دل کی کیفیت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ مگر آپ کے خط نے میرے سوچنے اور دیکھنے اور سمجھنے میں زبردست مثبت تبدیلی لادی۔ آپ کی نصیحت کہ ”اس دنیا میں کسی کو بھی اپنا مستقل دشمن نہیں سمجھنا چاہئے۔ بلکہ اس ذہن کے ساتھ کام کرنا چاہئے کہ ہر شخص میرا potential friend ہے۔ اس نصیحت نے نہ صرف جماعت والوں کی طرف سے میرے دل کے کینہ کو صاف کر دیا ہے بلکہ ان کے قریب جانے کا حوصلہ بھی عطا کیا ہے۔ اس سے نہ صرف اتحاد ملت کے کام میں اضافہ ہوگا بلکہ کافی خاموشی کے ساتھ میں الرسالہ کے مضامین و نصیحت کو ان کے اندر تک پہنچا سکوں گی۔ اس کا نتیجہ بھی سامنے آرہا ہے۔ ایک خاتون جو خود بھی دینی کام کر رہی ہیں۔ آپ کا الرسالہ کافی شوق سے لے کر پڑھ رہی ہیں۔ انہیں آپ کے الرسالہ کا سفر نامہ بہت پسند آتا ہے۔ آپ کی اعراض کی تعلیم گویا کانٹے کے بدلے پھول دینے کی تعلیم ہے۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ میرے لیے ’دلوں کو پھیر دینے والے‘ سے صراط مستقیم پر مضبوطی سے قائم رہنے کی دعا کریں۔ آمین میری تعلیم میں ہر روز ”تذکیر القرآن “ بھی شامل ہے۔ میں اس کی تعریف کس طرح کروں؟ بس آپ یہ سمجھیے کہ میں نے اب تک قرآن کو کئی بار پورا پڑھا ہے، معنیٰ کے ساتھ بھی
‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues