Al-Risala · October 2000 · page 40

Personally I have no problem.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۰

جا کر امریکہ اور یورپ کے ملکوں میں چین اور سکون کے ساتھ رہ رہے ہیں بلکہ وہ زبان حال یا زبان قال سے اس پر فخر کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنا اور اپنے بچوں کا مادی مستقبل شاندار طور پر ان سیکولر ملکوں میں محفوظ کر لیا۔

یہ معاملہ بلاشبہ ایک سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ ۱۹۴۷ سے پہلے ان مسلمانوں نے اپنی علیحدہ تہذیبی شناخت کو اتنی زیادہ اہمیت دی کہ انہوں نے اس معاملہ میں یہاں کی غیرمسلم اکثریت سے کسی بھی مصالحت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ مولانا حسین احمد مدنی جو متحدہ قومیت کے قائل تھے، ان کو شیخ الاسلام کے بجائے شیخ الہندم کہا گیا۔ اسی طرح مولانا ابوالکلام آزاد کو شوبوائے کانام دیا گیا، وغیرہ۔

ان مسلمانوں نے یہاں ایسی دھواں دار تحریک چلائی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں اور غیرمسلموں میں بہت بڑے پیمانہ پر نفرت اور کشیدگی کی فضا قائم ہو گئی۔ دونوں کے درمیان تعلقات کی اس تلخی نے اس پورے علاقہ میں دعوت کے مواقع کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ نیز یہ کہ اس نام نہاد اسلامی تحریک کے نتیجہ میں انڈیا کے تقریباً ہیں کروڑ مسلمان مزید اضافہ کے ساتھ عین اسی خطرہ میں زیادہ شدت کے ساتھ پھنس کر رہ گئے جس خطرہ سے بچنے کا نام لے کر علیحدہ مسلم لینڈ کی تحریک چلائی گئی تھی۔

یہ بلاشبہ ایک انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ قرآن وسنت کی روشنی میں تقریباً یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ وہ تمام مسلمان ایک مجرمانہ فعل کے مرتکب ہوئے ہیں جنہوں نے علیحدہ تہذیبی شناخت کے نام پر یہ ہنگامہ کھڑا کیا تھا اور اب نہایت اطمینان کے ساتھ اسی قسم کی سیکولر تہذیب سے موافقت کر کے اس کے اندر پرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔

اسلام کے مطابق، ایسے مسلمانوں کے لئے ان کی موجودہ پرسکون زندگی کا کوئی مبرر (justification) موجود نہیں۔ ان لوگوں کے لئے جائز طور پر صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (option) ہے۔ یا تو وہ دوبارہ اپنے حاصل کردہ مسلم لینڈ" میں واپس جائیں اور وہاں کی سختیوں

‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues

Printed page