Personally I have no problem.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۱
اور تلخیوں کو برداشت کرتے ہوئے وہاں زندگی گزاریں۔ ۔ اس کے لئے دوسرا ممکن انتخاب یہ ہے کہ وہ کھلے طور پر یہ اعلان کریں کہ ان کا سابقہ نظریہ غلط تھا۔ ایک مسلمان سیکولر لینڈ میں بھی اسی طرح جائز طور پر رہ سکتا ہے جس طرح مسلم لینڈ میں۔
ان مسلمانوں کی موجودہ حالت گویا تیسرا انتخاب (third option) ہے۔ اور اس معاملہ میں تیسرا انتخاب بلا شبہ کوئی انتخاب نہیں۔ یہ اسی دوہر معیار کی مثال ہے جس کو حدیث میں "الذي یأ تی ھٰؤلاء بوجه وھٰؤلاء بوجه (صحیح البخاری، کتاب الادب، باب ما قیل فی ذی الوجھین)کہاگیاہے،اس اس قسم کی دہرا روش اسلام میں اتنی زیادہ مبغوض ہے کہ اندیشہ ہے کہ اس کے ساتھ ”نماز اور روزہ بھی غیر معتبر ہو جائے۔
یہاں یہ اضافہ کرنا ضروری ہے کہ اس مجرمانہ فعل کے ذمہ دار صرف وہ لوگ نہیں ہیں جو براہ راست طور پر اس تحریک کے علم بردار بنے ہوئے تھے بلکہ وہ لوگ بھی یقینی طور پر اس میں شریک قرار دئے جائیں گے جنہوں نے اس کے خلاف آواز بلند نہیں کی یا اب وہ کھلے طور پر اس نظریہ کی غلطی کا اعتراف نہیں کر رہے ہیں۔ ایسے موقع پر کسی کا خاموش رہنا ہمیشہ بالواسطہ تائید کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس مسلمہ اصول کے مطابق، مذکورہ جرم میں اگر کچھ لوگ براہ راست طور پر شریک ہیں تو دوسرے لوگ بالواسطہ طور پر شریک ۔ اس جرم عام سے مستثنیٰ صرف وہ لوگ ہیں جو کھلے طور پر اس کی غلطی کا اعلان کریں، اور اس کی پرواہ نہ کریں کہ اس اعلان کا نتیجہ انہیں اپنے ہم قوموں کی طرف سے سخت رد عمل (backlash) کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔ سوال میں فلسفہ کا طالب علم ہوں اور اکثر و بیشتر شکوک و شبہات سے دوچار رہتا ہوں۔ فلسفہ کی طرف میرا طبعی میلان ہے۔ ایک قسم کے شکوک رفع ہوتے ہی دوسرے قسم کے شکوک مجھے آگھیرتے ہیں۔ ان صورت حال سے نمٹنے کے لئے کیا فلسفہ کا مطالعہ ترک کرنا ہوگا۔ اکثر لوگوں کا مجھے یہ مشورہ ہے کہ فلسفہ کوئی عملی چیز نہیں، فکری چیز ہے اور فکری پیچیدگیوں میں پڑنا اپنا وقت
‹ Previous page Next page › Contents of October 2000 All issues