جہاد اکبر
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰
آپ ممکن پر راضی ہو جائیں تو بیک وقت آپ کو دو فائدے حاصل ہوں گے اختلاف کا فوری خاتمہ اور مواقع کار کا حصول۔
یہی اصول تمام انفرادی نزاعات کے لیے ہے۔ زندگی کی سرگرمیوں کے درمیان ہر شخص کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ اختلاف اور نزاع کی صورتیں پیش آتی ہیں۔ کبھی مالی اور کبھی غیر مالی۔ ایسے مواقع پر جو شخص حق اور باطل یا صحیح اور غلط کی بحث چھیڑے وہ بلاشبہ غیر دانش مند انسان ہے۔ اس کے بجائے جو عملی تقاضوں کو سمجھے اور ان کی رعایت کرتے ہوئے ممکن پر راضی ہو جائے تو ایسا ہی شخص عقل مند ہے، اور یہی وہ شخص ہے جو اس دنیا میں کامیابی حاصل کرے گا۔
اجتماعی زندگی میں جب بھی کوئی نزاع پیدا ہو تو لوگوں کی توجہ تمام تر اس پر لگ جاتی ہے کہ از روئے انصاف کیا ہونا چاہئے یا ان کے نزدیک اس معاملہ میں حق کیا ہے اور پھر اس حق کے حصول کے لئے فریق ثانی سے لڑائی چھیڑدیتے ہیں۔ یہ لڑائی اکثر سالہا سال تک جاری رہتی ہے اور اکثر کسی مثبت نتیجہ تک نہیں پہنچتی۔ اس طرح کے موقع پر دوسرا طریقہ یہ ہے کہ یہ سوچا جائے کہ مفروضہ حق کے حصول میں جو وقت اور طاقت خرچ ہوگی اس کو مقابلہ آرائی سے بچا کر اپنی مثبت تعمیر میں استعمال کیا جائے۔
ٹکراؤ ہمیشہ حق کے حصول کے نام پر کیا جاتا ہے۔ مگر عملی طور پر ٹکراؤ کا نتیجہ ہمیشہ یہ نکلتا ہے کہ اس کے دوران نہایت قیمتی مواقع ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس دنیا میں عقلمندی یہ ہے کہ ہر معاملہ میں یہاں عملی نقطہ نظر اختیار کیا جائے ۔ ایک شخص اپنی ذاتی زندگی میں آئیڈیل کو اپنا نشانہ بنا سکتا ہے، مگر جب اجتماعی زندگی کا معاملہ ہو تو اس کو ہمیشہ پریکٹیکل بن جانا چاہئے ۔
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues