Al-Risala · February 2000 · page

جہاد اکبر

الرسالہ، فروری ۲۰۰۰

انھوں نے انصاف کے حصول کے نام پر بے شمار دولت ضائع کی ہے۔ اور لاکھوں قیمتی جانوں کا نقصان کیا ہے۔ قیام امن کی صورت میں ان کا یہ تمام سرمایہ تعمیر واستحکام کے محاذ پر لگ جاتا۔ اس مثبت پالیسی کا نتیجہ یہ ہوتا کہ وہ ان تمام چیزوں کو لڑائی کے بغیر کامیاب طور پر حاصل کر لیتے جس کو وہ لڑائی کے ذریعہ ناکام طور پر حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

اس معاملہ کی بہترین مثال اسلام کے دور اول کا وہ تاریخی واقعہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور مشرک قبائل کے درمیان زبردست نزاع تھی۔ ان مشرکین نے آپ کو آپ کے وطن مکہ سے نکلنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اور مسلمانوں کے خلاف دوسری بہت سی ناانصافیاں کر رہے تھے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اگر امن کے حصول کے لئے عدل کی شرط لگاتے تو دونوں فریقوں کے درمیان کبھی امن قائم نہ ہوتا۔ مگر آپ نے یہ کیا کہ عدل وانصاف کے سوال کو الگ کر کے مشرکین سے گویا ’’امن برائے امن‘‘ کے اصول پر صلح کر لی۔ اس امن کو آپ نے کام کے ایک موقع کے طور پر لیا۔ اور اس کو اسلام کی تعمیر واستحکام کے لیے استعمال کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف دو سال کے اندر مزید اضافہ کے ساتھ وہ سب کچھ حاصل ہو گیا جس کو آپ نے بظاہر معاہدہ امن کے وقت کھو دیا تھا۔

دانش مندی کا یہ اصول جس طرح اجتماعی نزاعات کے لیے ہے، اسی طرح وہ انفرادی نزاعات واختلافات کے لیے بھی ہے۔ انفرادی معاملات میں بھی کامیابی کا واحد طریقہ یہی ہے کہ خیر اور شر یا صحیح اور غلط کی بنیاد پر معاملات کو طے کرنے کے بجائے ممکن اور ناممکن کی بنیاد پر ان کو طے کیا جائے ۔

گھر کے اندر دو مردوں یا دو عورتوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو تو یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ حق کیا ہے اور ناحق کیا ہے بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ عملی حالات کے اعتبار سے ممکن کیا ہے اور ناممکن کیا ہے۔ حق اور ناحق یا صحیح اور غلط کی بحث میں پڑنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اختلاف کبھی ختم نہ ہوگا۔ اس کے برعکس اگر

‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues

Printed page