محبت صرف اللہ کے لئے
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰
محبت صرف اللہ کے لئے
محبت کا جذبہ انسان کے اندر سب سے زیادہ اعلیٰ جذبہ ہے۔ ایک شخص کسی دوسرے کو جو سب سے زیادہ قیمتی تحفہ دے سکتا ہے وہ یہی محبت کا تحفہ ہے۔ موجودہ دنیا میں کسی انسان کا سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے محبت کے جذبہ کو کسی اور طرف بھٹکنے نہ دے۔ وہ صرف اللہ کو اپنے جذبات محبت کا مرکز بنائے۔ کسی اور چیز کو اپنے حب شدید کا مرکز بنانا، قرآن کی زبان میں، اس کو اللہ کے برابر ٹھہرانا ہے۔ اللہ کی اس دنیا میں جو آدمی کسی اور چیز کو اللہ کے برابر ٹھہرائے وہ اللہ کے نزدیک سراسر بے قیمت ہو کر رہ جائے گا۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے:
اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کے برابر ٹھہراتے ہیں۔ ان سے ایسی محبت رکھتے ہیں جیسی محبت اللہ سے رکھنا چاہئے۔ اور جو ایمان والے ہیں وہ سب سے زیادہ اللہ سے محبت رکھنے والے ہیں۔ اور اگر یہ ظالم اس وقت کو دیکھ لیں جب کہ وہ عذاب کو دیکھیں گے کہ زور سارا کا سارا اللہ کا ہے اور اللہ بڑا سخت عذاب دینے والا ہے۔ (البقرہ ۱۶۵)
دنیا میں بہت سی چیزیں ہیں جن کو دیکھ کر انسان کے اندر ان کے لئے محبت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ مگر یہ چیزیں اس لئے نہیں ہیں کہ آدمی ان کے ساتھ حقیقی محبت کا تعلق قائم کرے۔ یہ چیزیں صرف برائے آزمائش ہیں۔ اللہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ انسانوں میں سے کون ہے جو ان چیزوں کو اپنا محبوب بناتا ہے اور وہ کون ہے جو ان سے اوپر اٹھ جاتا ہے، اس کے لئے کوئی چیز اللہ کے ساتھ حب شدید میں رکاوٹ نہیں بنتی۔ اس حقیقت کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:
لوگوں کے لئے خوش نما کر دی گئی ہے محبت خواہشوں کی___ عورتیں، بیٹے، سونے چاندی کے ڈھیر، نشان لگے ہوئے گھوڑے، مویشی اور کھیتی، یہ دنیوی زندگی کے سامان ہیں۔ اور اللہ کے پاس اچھا ٹھکانا ہے، کہو، کیا میں تم کو بتاؤں اس سے بہتر چیز، ان لوگوں کے لئے جو ڈرتے ہیں۔ ان کے رب کے پاس باغ ہیں جن کے نیچے نہریں ہوں گی۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ۔ اور
‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues