Al-Risala · November 2000 · page

محبت صرف اللہ کے لئے

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰

پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور اللہ کی رضا مندی ہوگی اور اللہ کی نگاہ میں ہیں اس کے بندے۔ (آل عمران ۱۴۔ ۱۵)

موجودہ دنیا میں ایک اندیشہ یہ ہے کہ آدمی سے اس کی کوئی محبوب چیز کھو جائے ، اور پھر اس کی یاد میں وہ اپنے آپ کو اتنا زیادہ ہلکان کرلے کہ اس کے دل میں اللہ کے لئے کوئی جگہ باقی نہ رہے۔ اس لئے اسلام میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ہر چیز کو اللہ کی ملک سمجھو اور اس کے کھوئے جانے پر یہ سوچ کر صبر کر لو کہ جب تک اللہ نے چاہا وہ چیز میرے پاس رہی اور جب اللہ نے چاہا وہ چیز مجھ سے جدا ہوگئی۔ اس حقیقت کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:

اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈراور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں: ہم اللہ کے ہیں اور ہم اس کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ (البقرہ ۱۵۵۔۱۵۶)

محبت کے جذبہ کو گہرائی کے ساتھ اللہ سے وابستہ رکھنے کے لئے ایک اور خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ چنانچہ انسان کو پیشگی طور پر یہ بتا دیا گیا ہے کہ آخری انجام کے اعتبار سے یہ چیزیں سراسر بے حقیقت ہیں۔ آج کی زندگی میں جو چیز آدمی کو بہت خوشنما نظر آتی ہے اور وہ اس سے محبت کرنے لگتا ہے، موت کے بعد والی زندگی میں ان کے اندر اس کے لئے کشش نہ ہوگی۔ حقیقت کھلنے کے بعد آدمی ان چیزوں سے اس طرح بھاگے گا جیسے کہ وہ اس کے لئے بہت بڑی مصیبت ہوں۔ اس حقیقت کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:

پس جب وہ کانوں کو بہرہ کر دینے والا شور بر پا ہوگا۔ جس دن آدمی بھاگے گا اپنے بھائی سے، اور اپنی ماں سے اور اپنے باپ سے اور اپنی بیوی سے اور اپنے بیٹوں سے۔ ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایسا فکر لگا ہوگا جو اس کو کسی اور طرف متوجہ نہ ہونے دے گا۔ کچھ چہرے اس دن روشن ہوں گے، ہنستے ہوئے، خوشی کرتے ہوئے اور کچھ چہروں پر اس دن خاک اڑ رہی ہوگی، ان پر سیاہی چھائی ہوئی ہوگی۔ یہی لوگ منکر ہیں ، ڈھیٹ ہیں۔ (العبس ۳۳۔۴۲)

‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues

Printed page