محبت صرف اللہ کے لئے
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰
دنیا کی جو چیزیں اپنی ظاہری خوش نمائی کی بنا پر انسان کو فریب میں مبتلا کرتی ہیں، ان کے بارے میں قرآن وحدیث میں کثرت سے ایسے حوالے ہیں جو ان چیزوں کی اصل حقیقت کو بے نقاب کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر مال کے بارے میں قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ تم ساری زندگی اس کوشش میں لگے رہتے ہو کہ تمہارے پاس مال کا انبار اکٹھا ہو جائے۔ حالانکہ تم بہت جلد اس طرح مر جاتے ہو کہ مال کا کوئی حصہ تمہارے ساتھ نہیں جاتا۔ چنانچہ فرمایا کہ زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی حرص نے تم کو غفلت میں رکھا، یہاں تک کہ تم مرکز قبروں میں پہنچ گئے۔ (التکاثر ا۔۲)
اسی طرح عورت ہر زمانہ میں اس کا سبب بنی رہی ہے کہ وہ انسان کی توجہ کو حق سے ہٹا دے۔ انسان عورت کی محبت میں اتنا زیادہ گم ہوتا ہے کہ وہ اللہ کو بھی بھول جاتا ہے۔ اس حقیقت کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: مار آیت من ناقصات عقل و دین اغلب لللب الرجل الحازم من احداکن (مسلم، کتاب الایمان) یعنی میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو ناقص عقل اور ناقص دین کے باجود ایک دانش مند آدمی کی عقل پر اتنی زیادہ غالب آجائے۔
انسان کے پاس اپنے رب کے سامنے پیش کرنے کے لئے جو سب سے قیمتی اثاثہ ہے، وہ یہی محبت کا اثاثہ ہے۔ آخرت میں وہی شخص کامیاب ہوگا جس کے بارے میں زمین و آسمان یہ گواہی دیں کہ اس نے اپنا یہ سب سے زیادہ قیمتی اثاثہ غیر مشترک طور پر اپنے رب کے لئے پیش کر دیا تھا۔ اللہ جب تک غیب میں ہے انسان اس کو بھلا کر دوسری بے حقیقت چیزوں کو اپنا مرکز محبت بنا لیتا ہے، مگر قیامت میں جب اللہ اپنے عظمت و جلال کے ساتھ ظاہر ہوگا تو تمام دوسری چیزیں بالکل بے رونق دکھائی دینے لگیں گی ، ہر چیز اپنی کشش کھودے گی۔ اس وقت انسان حسرت وافسوس کے ساتھ سوچے گا کہ اصل قابل توجہ ہستی تو صرف اللہ کی تھی۔ مگر میں اپنے اندھے پن کی بنا پر دوسری بے حقیقت چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنائے رہا۔ اس وقت انسان اپنے تباہ کن غلطی پر پشیمان ہوگا، مگر اس دن کا پشیمان ہونا کسی کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوں کہ وہ دن اپنے عمل کا انجام پانے کا دن ہوگا، نہ کہ عمل کرنے کا دن۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues