Al-Risala · November 2000 · page

درخت کی مثال

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰

درخت سایہ تلاش کرنے والے کے لئے سایہ مہیا کرتا ہے۔ وہ اپنے پاس سے گزرنے والوں کے لئے مہک اور سر سبز منظر کا تحفہ پیش کرتا ہے۔ جو شخص اس سے غذا حاصل کرنا چاہے اس کے لئے اس کے پاس لذیذ پھل موجود ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ جو لوگ اس کو کاٹ ڈالتے ہیں ان کو بھی وہ لکڑی مہیا کرتا ہے جس سے وہ اپنی مختلف تمدنی ضرورتوں کو پوری کریں۔ جب بھی تجربہ کا کوئی لمحہ آتا ہے تو درخت عین وہی ثابت ہوتا ہے جس کی اس سے امید کی گئی تھی۔

ان سب کے ساتھ درخت ایک ایسا وجود ہے جو زمین میں اپنی جڑیں داخل کر کے خود اپنے بل پر کھڑا ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ درخت کا تقریباً نصف حصہ سطح زمین کے نیچے ہوتا ہے اور نصف حصہ سطح زمین کے اوپر۔ وہ زمین کی تہوں میں اس طرح گڑا ہوا ہوتا ہے کہ کوئی اس کو اکھاڑ نہ سکے اور فضا میں اس طرح بلند ہوتا ہے کہ کائنات کی تمام چیزوں سے بے روک ٹوک اپنا رزق حاصل کرے۔ قرآن میں مومن کی مثال درخت سے دی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو کن صفات کا حامل ہونا چاہئے۔ مومن وہ ہے جس کے اندر وہی صفتیں انسانی سطح پر موجود ہوں جو درخت کے اندر مادی سطح پر پائی جارہی ہیں۔ مومن کو وہی کام شعور کے تحت کرنا ہے جس کو درخت طبعی قانون کے تحت انجام دے رہا ہے۔ مومن کو خود اپنے ارادہ سے اسی سر سبز دنیا کی تخلیق کرنی ہے جس کو درخت نظام قدرت کی پابندی میں جبرأ وجود میں لاتا ہے۔

عام درخت مٹی کے اندر سے نکلتا ہے۔ مومن کا درخت روحانیت کی ربانی زمین پر اگتا ہے۔ ایک دنیا کے مادی اجزاء سے بنتا ہے اور دوسرا عالم آخرت کے جنتی اجزاء سے۔ عام درخت مادی دنیا کا درخت ہے تو مومن انسانی دنیا کا درخت۔

درخت ایک نمو پذیر وجود ہے، اسی طرح مومن بھی ایک نمو پذیر وجود ہے۔ مومن وہ انسان ہے جو ربانی فکر کی بنا پر اس قابل ہو جاتا ہے کہ پوری کائنات اس کے لئے معرفت کا دستر خوان بن جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues

Printed page