Al-Risala · November 2000 · page

صحیح طرزِ فکر

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰

سمجھنے کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے وہ ذہنی استعداد(intellectual competence) ہے نہ کہ فنی استعداد (technical competence)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ساتویں صدی عیسوی کا انسان جس طرح قرآن کا مخاطب بن سکتا تھا، ٹھیک اسی طرح آج کا انسان بھی قرآن کا مخاطب بن سکتا ہے۔ کیوں کہ دونوں کے معیارِ ذہنی میں کوئی فرق نہیں۔

یہاں میں ایک مثال دوں گا جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آج کے کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ انسان کی جو فکری سطح ہے، کسی کمی کے بغیر وہی فکری سطح پیغمبر کے زمانہ کے لوگوں کی بھی تھی۔ مثلاً دورِ جدید کے ایک مغربی مفکر ولیم رالف انگ(William Ralph Eng) کا قول ہے جو گویا آج کے ایک تعلیم یافتہ انسان کی ذہنی سطح کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس نے کہا:

The wise man is he who knows the relative value of things. ٹھیک یہی بات ایک صحابیِ رسول حضرت عمر فاروق نے اپنے الفاظ میں اس طرح کہی: لیس العاقل الذی يعرف الخير من الشر ولكنه الذی يعرف خير الشرين۔ (عقل مند وہ نہیں جو خیر کو اور شر کو جانے بلکہ عقل مند وہ ہے جو یہ جانے کہ دو شر میں سے کمتر شر(lesser evil) کون سا ہے۔ یہ دونوں مثالیں بتاتی ہیں کہ معیارِ ذہن کے اعتبار سے آج کے انسان اور ساتویں صدی کے انسان میں کوئی فرق نہیں۔ پھر جو قرآن ساتویں صدی کے انسان کو اپیل کر سکتا تھا وہ موجودہ زمانہ کے انسان کو کیوں اپیل نہیں کرے گا۔

آخری بات یہ کہ فکری صحیح کی کلید یہ ہے کہ آدمی منتشر ذہن اور درست ذہن کے فرق کو جان لے: To know the difference between a sound mind and confused mind is key to right thinking.

‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues

Printed page