Al-Risala · November 2000 · page

صحیح طرزِ فکر

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰

فلسفہ اور سائنس کے اس فرق کو بطور علامت لیتے ہوئے میں کہوں گا کہ جو آدمی اپنے تھنکنگ پراسس (thinking process) کو کامیابی کے ساتھ منزل تک پہنچانا چاہتا ہے، اس کو چاہئے کہ وہ ’’فلا سفر‘‘ نہ بنے بلکہ وہ ’’سائنٹسٹ‘‘ بنے۔ یعنی فطرت کے نظام کے مطابق، وہ جن باتوں کو جان سکتا ہے ان کو وہ جاننے کی کوشش کرے۔ اور جن باتوں کو وہ اپنی محدودیت کی بنا پر نہیں جان سکتا ان کے بارے میں وہ اجمالی علم پر قناعت کرے۔ اسی حقیقت کو ایک عالم نے ان الفاظ میں بیان کیا: ابھمو ا ما ابھمہ اللہ (جس چیز کو اللہ نے مبہم رکھا تم بھی اس کو مبہم رکھو)

علم کے دو پہلوؤں میں فرق کے اصول کو ملحوظ رکھنے کی یہی واحد تدبیر ہے جو آدمی کو کنفیوژن (confusion) سے بچاسکتی ہے جو کہ صحیح نتیجہ فکر تک پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جو آدمی اس حقیقت کو جانے کہ کنفیوژن کیا ہے اور رائٹ تھنکنگ (right thinking) کیا، اس نے گویا وہ چیز پالی جو موجودہ دنیا میں علم کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔

صحیح رائے تک پہنچنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی ظاہر (appearance) اور حقیقت (reality) میں فرق کرے۔ وہ صرف گہرے تجزیہ کی بنیاد پر اپنی رائے قائم کرے۔ اس کی ایک مثال کچھ لوگوں کی وہ بات ہے جو اکثر نقل کی جاتی ہے۔ کچھ لوگ قرآن کو ڈسکرڈیٹ کرنے کے لئے یہ کہتے ہیں کہ قرآن ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے دور میں اترا جب کہ لوگ سادہ قسم کی فطری زندگی گزارتے تھے۔ اب بڑی بڑی ترقیاں ہوچکی ہیں۔ آج کے ترقی یافتہ انسان کے لئے قدیم قرآن میں اپیل نہیں ہو سکتی۔

یہ ایک سطحی بات ہے۔ آج جو ترقی ہوئی ہے وہ تمام ٹیکنیکل ترقی ہے اور قرآن کا خطاب انسانی فکر سے ہے نہ کہ فنی ترقیات سے۔ جہاں تک انسانی ذہن کے لیول کا تعلق ہے وہ آج بھی وہی ہے جو پہلے تھا۔ نفسیاتی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ پانچ ہزار سال پہلے یونان کے فلسفیوں کا جو درجہ فکر تھا وہ عین وہی تھا جو آج کے انسان کا درجہ فکر ہے۔ اس اعتبار سے آج کے انسان اور ماضی کے انسان میں کوئی فرق نہیں۔

قرآن ایک نظریاتی کتاب ہے۔ اس کا خطاب فطرت انسانی سے ہے۔ قرآن کے پیغام کو

‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues

Printed page