ہریا نہ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰، صفحہ ۱۷
ایک ضخیم کتاب لکھی جس کا نام تھا وحدۃ المذ اہب (Essential Unity of All Religions) مگر ان کی یہ انسائیکلو پیڈیا ئی مہم بھی مکمل طور پر ناکام ہو گئی۔ اس کے بعد مہاتما گاندھی (وفات ۱۹۴۸) نے اپنی عوامی مقبولیت کا پورا زور اس نظریہ کے حق میں لگا دیا۔ مگر وہ بھی سراسر نا کام رہے۔ اسی طرح کے سیکڑوں بڑے بڑے دماغ سماجی اتحاد کے اس فارمولے کو لے کر اٹھے مگر وہ اپنے مقصد میں ایک فی صد بھی کامیاب نہ ہو سکے۔
پھر ان لوگوں نے کہا کہ اب آپ ہی بتائیے کہ سماجی اتحاد کا صحیح فارمولا کیا ہے۔ میں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے صحیح فارمولا صرف ایک ہے، اور وہ وہی ہے جس کو ہم اب بھی بڑے پیمانہ پر استعمال کر رہے ہیں، اور وہ ہے اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرنا۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ کا خلاصہ دو لفظوں میں یہ ہے کہ مذہبی اتحاد کا صحیح فارمولا باہمی اعتراف (mutual recognition) نہیں ہے بلکہ اس کا صحیح فارمولا با ہمی احترام (mutual respect) ہے۔
سرو دھرم ایکتا مشن کے مذکورہ دونوں ذمہ دار میری باتوں کو غور سے سنتے رہے۔ پھر میں نے پوچھا کہ آپ لوگوں کی رائے اس کے بارے میں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آپ کی بات سے ۸۰ فیصد اتفاق ہے۔ وہ لوگ مجھے کرنال میں ہونے والے ایکتا مشن کے اجلاس (۷ مئی ۲۰۰۰) میں چیف گیسٹ کے طور پر شرکت کی دعوت دینے آئے تھے۔ میں نے کہا کہ جب آپ لوگوں کو میری بات سے پورا اتفاق نہیں ہے تو ایسی حالت میں آپ کے اجلاس میں شریک ہونا میرے لئے ممکن نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ مسئلہ بے حد اہم ہے۔ آپ لوگ اس پر مزید غور کیجئے، اس کے بعد مجھے بتائیے۔ وہ لوگ واپس چلے گئے ۔ چند دن کے بعد ان کا ٹیلی فون آیا کہ ہم نے اپنی کمیٹی میں آپ کی بات کو رکھا اور اس پر کافی سوچ بچار کیا۔ آخر کار ہمارے تمام ممبروں نے آپ کی بات سے پورا اتفاق کر لیا ہے۔ اب آپ کو ہمارے اجلاس میں شرکت پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ چنانچہ میں نے ان کی دعوت کو منظور کر لیا۔
پروگرام کے مطابق ۷ مئی ۲۰۰۰ کی صبح کو دہلی سے کرنال کے لئے روانگی ہوئی۔ دہلی سے
‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues