ہریا نہ کا سفر
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰
کرنال کا فاصلہ ۱۲۵ کلومیٹر ہے۔ یہ فاصلہ بذریعہ روڈ طے ہوا۔
اس سفر کا پہلا تجربہ بہت خوشگوار تھا۔ کل تک یہاں سخت گرمی کا موسم چل رہا تھا۔ ۷ مئی کی صبح کو ۷ بجے جب ہماری گاڑی دہلی کی سڑکوں پر آگے بڑھ رہی تھی تو اچانک فضا میں بادل گھر آئے اور بارش ہونے لگی۔ مزید خوشگوار بات یہ تھی کہ بارش زیادہ لمبی نہیں ہوئی بلکہ کچھ دیر بارش ہوئی اور پھر تھم گئی۔ گویا کہ وہ صرف موسم کو خوشگوار بنانے کے لئے آئی تھی۔ مجھے مولانا اقبال احمد سہیل (تاریخ وفات ۱۹۵۵) کا ایک مصرعہ یاد آیا:
برس کے بادل جو کھل گیا ہے تو لوگ خوشیاں منارہے ہیں دہلی سے نکل کر ہماری گاڑی ہریانہ کے علاقہ میں داخل ہوئی۔ اب ہم لوگ نیشنل ہائی وے نمبر ایک پر چل رہے تھے۔ یہ ہمارے ملک کی سب سے اہم سڑک مانی جاتی ہے، لیکن اس کا تقابل اگر امریکہ اور ترقی یافتہ مغربی ملکوں سے کیا جائے تو وہ بہت کمتر معلوم ہوگی۔ سڑک، ٹیلی فون اور اسی طرح کے دوسرے وسائل کو انفراسٹرکچر(infrastructure) کہا جاتا ہے۔ میں نے اس مسئلہ پر بہت غور کیا کہ پچاس سال سے زیادہ مدت گزرنے کے باوجود ہندوستان ایک ترقی یافتہ ملک نہ بن سکا جب کہ اسی مدت میں بہت سے ملک جدید معیار کے مطابق، ترقی یافتہ ملک بن چکے ہیں۔ حتیٰ کے سنگاپور جیسے چھوٹے ملک بھی۔ اس مسئلہ پر غور کرنے کے بعد جو بات میری سمجھ میں آئی ہے۔ وہ یہ کہ دوسرے ملکوں نے سب سے زیادہ زور بہترین انفراسٹرکچر پر دیا۔ جب کہ ہمارے یہاں اس کے بجائے نظریاتی کٹرپن(ideological fanaticism) پر سارا زور دیا گیا۔ میں اپنے مطالعہ سے یہ سمجھا ہوں کہ ہر انسان پیدائشی طور پر ترقی کرنا اور آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ ہر انسان کے اندر بے پناہ جذبہ ہے کہ وہ اپنی فطری صلاحیتوں کو استعمال کرکے اپنے حوصلوں کی تکمیل کرے اور بڑے بڑے کارنامے انجام دے۔ ایسی حالت میں انسان کو ترقی کے لئے کسی نظریہ (ideology) کی ضرورت نہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ لوگوں کے لئے وہ سہولتیں (facilities) فراہم کی جائیں جن کو استعمال کر کے وہ اپنے فطری حوصلوں کی تکمیل کر سکیں۔ مثلاً تعلیم کے اچھے
‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues