Al-Risala · February 2000 · page

دانش مند کون

الرسالہ، فروری ۲۰۰۰

کی جذباتی تسکین کی خاطر زیادہ بڑے فائدے سے اپنے آپ کو محروم کر لینا۔ مذکورہ قول میں اسی دوسرے یا بظاہر دکھائی نہ دینے والے پہلو کو معاملے کا اضافی پہلو کہا گیا ہے۔ معاملے کا ابتدائی پہلو، یعنی زیادتی کرنے والے کی زیادتی، ہر آنکھ والا دیکھتا ہے مگر معاملے کے دوسرے پہلو یا اضافی قدر (relative value) کو وہی شخص دیکھے گا جو گہری بصیرت کا حامل ہو اور اپنے اقدام کا فیصلہ عقلی غور و فکر کے تحت کرتا ہو نہ کہ محض وقتی جذبات کے تحت۔ موجودہ دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں اکثر معاملات میں یہ دونوں پہلو موجود ہوتے ہیں۔ غیر دانش مند آدمی صرف سامنے کی صورت حال کو دیکھ پاتا ہے اور اس کے مطابق کارروائی کر کے اپنے معاملے کو بگاڑ لیتا ہے۔ دانش مند انسان وہ ہے جو معاملے کے دیگر پہلوؤں کو دیکھ سکے۔ جو سامنے کی صورت حال سے اوپر اٹھ کر ان حقیقتوں کا ادراک کر لے جو اگر چہ مقام واقعہ پر موجود نہیں مگر آخر کار ظاہر ہو کر وہی فیصلہ کن بن جائیں گی۔

موجودہ دنیا اسی دانش مندی کا امتحان ہے۔ جو آدمی اس اعتبار سے دانش مند ثابت ہو وہی اس دنیا میں کامیاب ہوگا۔ اور جو آدمی اس دانش مندی کا ثبوت نہ دے سکے اس کے لئے یہاں ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues

Printed page