حق غالب رہا
الرسالہ، فروری ۲۰۰۰
حق غالب رہا
اسلام خدا کا آخری دین ہے۔ آخری دین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے لئے خدا نے یہ مقدر کر دیا ہے کہ وہ قیامت تک ایک محفوظ اور زندہ مذہب کی حیثیت سے باقی رہے۔ ہر چیلنج اس کے لئے زندگی کا ایک نیا موقع ثابت ہو۔ ہر چیلنج اس کے لئے ایک اسٹیپنگ اسٹون بن جائے۔ یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے ۔ الاسلام یعلو ولا یعلیٰ (صحیح البخاری، کتاب الجنائز) تاہم اسلام کا یہ علوفکری اور تاریخی معنی میں ہے، وہ سیاست اور اقتدار کے معنی میں نہیں ہے۔ سیاسی اقتدار، خدا کے قانون کے مطابق بدلتا رہتا ہے (آل عمران ۱۴۰)۔ مگر فکری اور نظریاتی سربلندی جو اسلام کو عطا ہوئی ہے اس میں کبھی کوئی فرق آنے والا نہیں۔ یہ اسلام کی ایک ابدی صفت ہے نہ کہ کوئی وقتی صفت۔
قرآن میں اس حقیقت کو پیغمبر اسلام کی نسبت سے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ـــــ وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ اس کو تمام دینوں پر غالب کر دے، اور اللہ اس پر گراں ہونے کے لئے کافی ہے۔ (الفتح ۲۸) خدا کا یہ فیصلہ اس حد تک حتمی ہے کہ قرآن کے مطابق، اسلام کے مخالفین اگر اس کے خلاف کوئی شر کھڑا کریں تو وہ شر بھی اسلام کے لئے خیر بن جائے گا (النور ۱۱)
اسلام کے اس مستقبل کو یقینی بنانے کے لئے خدا نے تاریخ انسانی کو ایک ایسے رخ پر ڈال دیا کہ وہ ہمیشہ وہی کورس اختیار کرے جو اسلام کی موافقت میں جانے والا ہو۔ و کفی باللہ شھیدا (الفتح ۲۸) کا مطلب یہی ہے۔ حتی کہ اس معاملہ کو یقینی بنانے کے لئے خدا نے یہ غیر معمولی فیصلہ فرما دیا کہ نہ صرف مسلم بلکہ غیر مسلم بھی اس موافق اسلام تاریخی عمل (Historical Process) میں اپنا مثبت حصہ ادا کرتے رہیں۔ یہ حقیقت صحیح البخاری کی ایک روایت میں اس طرح آئی ہے: ان اللہ لیؤید هذا الدين بالرجل الفاجر (فتح الباری ۲۰۸/۶)
‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues