اردو نیوز (جدہ) کے سوال نامہ کا جواب
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۴
جواب (positive response) کے طور پر وجود میں آئے، نہ کہ حالات کے منفی جواب (negative response) کے طور پر۔ اور یہ تحریکیں یقینی طور پر اس معیار پر پوری نہیں اترتیں۔
فساد، تعلیم، بے روزگاری اور دینی شناخت کے مسائل حقیقی سے زیادہ فرضی ہیں۔ فسادات کا مسئلہ برصغیر ہند کے مسلمانوں کے بے برداشت مزاج کی وجہ سے ایک سنگین مسئلہ بن گیا۔ اسی طرح تعلیمی پس ماندگی کا مسئلہ اس لئے پیدا ہوا کہ مسلمانوں کو تعلیم کے بجائے غیر ضروری سیاسی مسائل میں الجھا دیا گیا۔ بے روزگاری کے مسئلہ کا سبب یہ تھا کہ مسلمانوں کو محنت کا سبق دینے کے بجائے بے نتیجہ طور پر رزرولوشن کا سبق دیا گیا۔ اسی طرح دینی شناخت کے مسئلہ کی حیثیت بھی ایک فرضی خطرہ کی ہے۔ ہندوستان میں اس وقت جتنا زیادہ دینی کام ہو رہا ہے وہ کسی بھی دوسرے ملک میں نہیں ہو رہا ہے، حتی کہ مسلم ملکوں میں بھی نہیں۔ مذہبی آزادی دورِ جدید کا ایک مسلمہ اصول ہے، ایسی حالت میں مسلمانوں کی مذہبی شناخت کے لئے کسی خارجی خطرہ کا کوئی امکان ہی نہیں۔
ہم اپنا کام اسلامی سنٹر اور الرسالہ مشن کے تحت کر رہے ہیں۔ ہماری تشخیص کے مطابق تمام مسائل کی جڑ صحیح طرز فکر کا فقدان ہے، اس لئے ہم اپنی تمام کوشش مسلمانوں کے اندر فکری بیداری اور شعوری تعمیر پر لگائے ہوئے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ مسلمانوں کا تعلق غیر مسلموں سے داعی اور مدعو کا تعلق ہے نہ کہ حریف اور رقیب کا۔ موجودہ زمانہ میں ”غلط رہنمائی کے نتیجہ میں“ مسلمانوں کا تعلق غیر مسلموں سے رقابت کی بنیاد پر قائم ہو گیا جو دعوتی عمل میں ایک سنگین رکاوٹ ہے۔ ہم مسلمانوں کے اندر دوبارہ دعوتی شعور کو زندہ کر رہے ہیں۔ ہماری یہ کوشش ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان معتدل فضا قائم ہوتا کہ دعوتی عمل دوبارہ موثر انداز میں جاری ہو سکے۔
تعلیم اور روزگار کے میدان میں اب ہندوستانی مسلمانوں کے اندر ایک نمایاں تغیر (sea change) آچکا ہے۔ آج کا ہندوستانی مسلمان ان دونوں میدانوں میں اتنی تیزی سے آگے
‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues