اردو نیوز (جدہ) کے سوال نامہ کا جواب
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۵
بڑھ رہا ہے کہ بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل قریب میں ہندوستانی مسلمان تمام مسلم ملکوں سے آگے بڑھ جائیں گے۔ جہاں تک عالمِ اسلام کی موجودہ صورت حال کا تعلق ہے، وہ بظاہر کوئی روشن تصویر پیش نہیں کرتے۔ اور اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ مسلم دنیا کے مسلمانوں میں پر شور تحریکوں کے باوجود، ابھی تک اس چیز کا فقدان ہے جس کو سمت کا شعور (sense of direction) کہا جا سکتا ہے۔
۷| فلسطین کے مسئلے کی جڑ یہ ہے کہ ۱۹۴۸ سے لے کر اب تک اس معاملہ میں جو کچھ کیا گیا وہ سب جذباتی رد عمل کے تحت کیا گیا نہ کہ کسی سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت۔ اس مسئلہ کے حل کا آغاز یہ ہے کہ اس غلطی کی اصلاح کی جائے۔ اس اصلاح کی پہلی علامت یہ ہوگی کہ اس موضوع پر جذباتی تقریر اور متشددانہ طریقہ کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے اور کامل یکسوئی کے ساتھ پر امن طریقہ کار کو اختیار کیا جائے۔
۸| حکومتِ ہند اور اسرائیل کے تعلقات کی نوعیت میرے نزدیک کوئی غیر معمولی چیز نہیں۔ یہ قومی انٹرسٹ کا معاملہ ہے جو ہر ایک کے ہاں پایا جاتا ہے۔ امریکہ کھلے طور پر اسرائیل نواز ہے۔ اس کے باوجود اکثر عرب ممالک اس سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ نیز تقریباً ۸ ملین مسلمان اسی اسرائیل نواز امریکہ میں آباد ہو کر اس کی قومی مشین کا پرزہ بنے ہوئے ہیں۔ پھر ایک کے بارے میں احتجاج اور دوسرے کے بارے میں خاموشی کا کیا جواز۔
۹| ’’اسلامی جہاد‘‘ کے نام پر جب امریکہ کے مفادات کو تشدد کا نشانہ بنایا جائے تو ہر ملک اسی طرح اپنے تحفظ کی تدبیر کرے گا، خواہ وہ امریکہ ہو یا کوئی دوسرا مسلم یا غیر مسلم ملک۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ان لوگوں کو نصیحت کی جائے جو اسلام کے نام سے غلط طور پر تشدد کا کلچر چلا رہے ہیں نہ کہ امریکہ کو۔
۱۰| ہندوستانی مسلمان اور مسلم ممالک کے درمیان مذہبی روابط ہمیشہ سے موجود ہیں اور آئندہ بھی باقی رہیں گے۔ مگر ایسا تعلق جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر سیاسی نوعیت رکھتا ہو، وہ نہ پہلے مفید تھا اور نہ آئندہ مفید ہو سکتا ہے۔ (۱۲ اگست، ۲۰۰۰)
‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues