Al-Risala · February 2000 · page

حق غالب رہا

الرسالہ، فروری ۲۰۰۰

اسلام کی یہ صفت کوئی پراسرار چیز نہیں۔ اس کو معلوم اسباب کے تحت سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ اسلام کا ایک محفوظ دین ہونا ہے۔ اسلام کے محفوظ مذہب ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ عین حقائق فطرت کے مطابق ہے۔ اسلام کا حقائق فطرت کے مطابق ہونا اس کے اندر یہ خصوصیت پیدا کرتا ہے کہ وہ ہر زمانہ میں اپنی برتر صداقت کو باقی رکھے۔

اسلام کے سوا دوسرے مذاہب میں بعد کے زمانے میں بگاڑ آگی۱۔ اس بگاڑ کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان مذاہب نے حقائق فطرت کے ساتھ اپنی مطابقت کھودی۔ اور نتیجہ وہ صرف وقتی صداقت بن کر رہ گئے نہ کہ ابدی صداقت۔ اس کے برعکس اسلام اپنی اصل ابتدائی حالت پر باقی ہے۔ اس لئے حقائق فطرت کے ساتھ اس کی مطابقت بھی باقی ہے۔ اسلام کی یہی امتیازی صفت ہے جس نے اس کے اندر ابدیت کی قدر (eternal value) پیدا کر دی۔ اپنی اس صفت کی بنا پر اسلام اسی طرح ابدی صداقت بن گیا جس طرح فطرت کے قوانین ابدی صداقت بنے ہوئے ہیں۔

اسلام کے حق میں خدا کا یہ فیصلہ پچھلے چودہ سو سال کے درمیان بار بار واقعہ بنتا رہا ہے۔ یہاں مثال کے طور پر اس کے چند تاریخی حوالے پیش کئے جاتے ہیں۔

ا۔ اسلام ۶۱۰ عیسوی میں مکہ میں شروع ہوا جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی بار وحی نازل ہوئی ۔ اس وقت اسلام عددی اعتبار سے ایک فی دنیا کی حیثیت رکھتا تھا۔ آج اہل اسلام کی تعداد ساری دنیا میں ایک بلین سے بھی زیادہ ہے۔ پہلے دور میں اسلام کو جو چیلنج پیش آیا وہ اتنا بڑا تھا کہ اس کو انٹرنیشنل چیلنج کہا جا سکتا ہے۔ ایک طرف عرب کے تمام قبائل اسلام کو آغاز ہی میں مٹا دینے پر تل گئے۔ دوسری طرف عرب کے باہر اس وقت کی دنیا کے دو سب سے بڑے ایمپائر، رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر اسلام کے دشمن بن گئے۔

مگر تاریخ بتاتی ہے کہ صرف ربع صدی کے اندر پورے عرب کو اسلامائز کر لیا گیا اور اس کے بعد اگلی ربع صدی میں اسلام رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کو ہمیشہ کے لئے توڑ کر ایشیا اور افریقہ کے بڑے حصہ میں پھیل گیا۔ یہ واقعہ اتنا زیادہ انوکھا تھا کہ ایک غیر مسلم مورخ نے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2000 All issues

Printed page