Japan is the jewel of Asia.
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۷
فرمائے۔ آپ کے پورے الرسالہ میں تمام اچھی باتوں کے درمیان صرف آپ کے ایک عمل کو نہیں سمجھ پائی۔ وہ 33 .P پر درج یہ جملہ ہے کہ ”میں نے 1966 کے آخر میں ان سے بیعت بھی کر لی۔ “ یہ کس طرح کا عمل ہے؟ بیعت کے بارہ میں مجھے کوئی علم نہیں ہے جس کی وجہ سے میں آپ کے اس کام کو سمجھ نہیں سکی ہوں۔
آپ کے ستمبر کے الرسالہ سے میں نے ایک اور چیز پائی ہے اور وہ ہے اپنی محنت سے انگریزی سیکھنا۔ جب سے آپ نے مجھے انگریزی سیکھنے کو کہا ہے میں اسی وقت سے اس کام میں لگ گئی تھی مگر الرسالہ پڑھنے کے بعد میں نے اس کام کو اور تیز کر دیا ہے۔ انگریزی زبان کے بعد اردو زبان بھی میں شروع سے سیکھوں گی اور انشاء اللہ ضرور کامیاب ہوں گی۔ خدا میری کوشش کو کامیابی تک پہنچائے اور مدد فرمائے۔ خواہش تو میری عربی زبان بھی سیکھنے کی ہے، انشاء اللہ۔ آپ کا ستمبر کا الرسالہ دینی مدارس پر ایک بہترین کتاب ہے۔ مجھے اس کتاب کی دوسری زبانوں میں اشاعت کا انتظار رہے گا، خاص کر انگریزی اور ہندی زبان میں۔ یہ کتاب خاص کر مجھے ان لوگوں کو دینا ہے جو صرف سیکولر تعلیم میں یقین رکھتے ہیں۔ والسلام علیکم (صوفیہ حیدر، بتیا، چمپارن، بہار)
جدہ کے اخبار اردو نیوز کے اسپشل کرسپانڈنٹ مسٹر محمد عتیق اللہ خاں نے 9 اگست ۲۰۰۰ کو اپنے اخبار کے لئے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل نیز مسلم دنیا کے مسائل سے تھا۔ جوابات کا خلاصہ یہ تھا کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے حوالہ سے عام طور پر مسائل اور مخالفانہ سازشوں کا ذکر کیا جاتا ہے مگر یہ منفی طرز فکر نہ اسلام کے مطابق ہے اور نہ عقل کے مطابق۔ خود قانون قدرت کے تحت دنیا میں ہمیشہ مسائل رہتے ہیں۔ اور مسلمان ہو یا غیر مسلمان ہر ایک کو مسائل کے درمیان اپنی زندگی کی تعمیر کرنی ہوتی ہے۔ اس لئے صحیح طریقہ یہ ہے کہ مسائل پر فریاد کرنے کے بجائے ان کو ایک فطری حقیقت سمجھ کر اپنی جدوجہد منصوبہ بندی کی جائے۔ یہی اس دنیا میں کامیابی کا واحد طریقہ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues