Al-Risala · November 2000 · page 46

Japan is the jewel of Asia.

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۰، صفحہ ۴۶

نامہ کو پڑھنے سے معلوم ہوتا تھا کہ آپ کا انٹرویو فلاں دن ریڈیو پر نشر ہوا۔ مگر رسالہ کی یہ خبر وہ دن گزرنے کے بعد ہی ملتی تھی۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت پر کئی رہنماؤں کے خیالات سننے کے دوران معلوم ہوا کہ اب بھی کئی عالم ایسے ہیں جو مسلمانوں کے کچڑے پن و بدحالی کا ذمہ دار یہاں کے سیاسی رہنماؤں اور ان کی تعصب پرستی کو ہی سمجھتے ہیں اور بتاتے ہیں۔ وہ اس چیز کو چیلنج کے طور پر نہیں لے پاتے۔ بیس سال سے لے کر آج تک آپ کے سوا کوئی اور نہیں جو مسلمانوں کی موجودہ حالت کا ذمہ دار خود مسلمانوں کو ہی بتائے۔ یہ بات اتنی آسان بھی نہیں کہ سب اسے جلدی مان ہی جائیں گے۔ مثال کے طور پر میرے شہر کے کئی لوگوں کے علاوہ میرے ایک بزرگ بھی ایسے ہی ہیں۔ وہ رسالہ تو خوب شوق سے پڑھتے ہیں مگر آپ کی اس بات کو وہ جلدی سمجھ نہیں پاتے۔ اس اختلافی مزاج پر جب میرے اور مذکورہ بزرگ کے بیچ بات ہوتی ہے تو مجھے کافی ٹینشن ہو جاتا ہے۔ آخر میں یہ سوچ کر چپ ہو جاتی ہوں کہ اس حقیقت کو آج نہیں شاید کل سبھی کی طرح یہ بزرگ بھی سمجھ جائیں گے اور مان لیں گے۔

۱۸ اگست کو ستمبر کا الرسالہ ملا۔ یہ دیکھ کر مجھے تھوڑی مایوسی ہوئی کہ اس بار کا الرسالہ صرف دینی مدارس پر ہے۔ کیوں کہ ہمارے یہاں مدرسہ کی پڑھائی و انتظام اطمینان بخش نہیں ہے۔ پھر بھی میں نے تشویش کے احساس کے ساتھ الرسالہ پڑھنا شروع کیا اور پڑھتی چلی گئی، یہاں تک کہ پورا الرسالہ پڑھ لیا۔ کئی باب کو میں نے بار بار پڑھا۔ مثلاً دینی مدارس کا امتیاز، مدرسہ کلچر، تجربات کی روشنی میں، وغیرہ۔ الرسالہ پڑھنے کے بعد مجھے جو کچھ ملا اس مدرسہ سے متعلق مثبت نظریہ، وسیع جانکاری، علم، اور خواہش کہ کاش میری بھی تعلیم و تربیت کسی دینی مدرسہ میں ہوئی ہوتی یا میرے علاقہ میں لڑکیوں کی کوئی دینی درسگاہ ہوتی جس میں اب بھی پڑھنے کے لئے جاسکتی۔ میری دعا ہے کہ اپنے ملک میں مدارس سینٹر جلد از جلد قائم ہو ۔ 57 .P پر آپ کے ذاتی تجربات کی سبھی باتوں میں خاص طور پر ۴ نمبر پر درج حدیث کے کلمات ’’تم غصہ نہ کرو‘‘ کو میں نے اپنی زندگی کا حصہ بنایا ہے۔ خدا مجھے صبر دے اور غصہ نہ کرنے کی طاقت عطا C:\Inpage/Nov-2000

‹ Previous page Next page › Contents of November 2000 All issues

Printed page