پانچ وقت کی نماز
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۷
پانچ وقت کی نماز
اسلام کی عبادات میں سب سے اہم عبادت نماز ہے۔ نماز اہل ایمان کے اوپر رات دن کے درمیان پانچ وقت کے لئے فرض کی گئی ہے۔
احادیث میں نماز کے تمام مسائل تفصیل کے ساتھ آئے ہیں، ان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نماز اہل ایمان کے اوپر پانچ وقت کے لئے فرض ہے۔ فرض نمازوں کا پانچ ہونا روایات سے متواتر ثابت ہوتا ہے۔ بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی اور دوسری کتب حدیث میں کثرت سے ایسی روایات ہیں جن میں الصلوات الخمس کے الفاظ آئے ہیں، اس سے صراحتہً یہ ثابت ہوتا ہے کہ فرض نمازیں پانچ ہیں جو مخصوص اوقات میں مقرر کی گئی ہیں۔
نماز کا حکم قرآن میں
قرآن میں نماز کا حکم دیتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: إن الصلوة كانت على المؤمنين كتاباً موقوتاً (النساء ۱۰۳) یعنی بے شک نماز اہل ایمان پر مقررہ وقتوں کے ساتھ فرض ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز کا بھی اسی طرح مقرر وقت ہے جس طرح حج کا مقرر وقت ہے۔ نیز یہ کہ نماز کا ایک وقت جب گزر جاتا ہے تو اس کے بعد اس کا دوسرا وقت آتا ہے اور اس طرح رات اور دن کے درمیان اس کی یہ ترتیب مسلسل جاری رہتی ہے (تفسیر ابن کثیر ۱/ ۵۳۹) اب سوال یہ ہے کہ نماز کے یہ مقررہ اوقات کیا ہیں۔ قرآن کے مطالعہ سے واضح طور پر اس کے پانچ اوقات معلوم ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں جو پانچ اوقات حدیث سے معلوم ہوتے ہیں، ٹھیک وہی اوقات خود قرآن سے بھی ثابت ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر مندرجہ ذیل مقامات ملاحظہ ہوں: ا۔ سورج نکلنے سے پہلے (قبل طلوع الشمس، طه ۱۳۰) فجر ۲۔ دوپہر ڈھلنے کے وقت (لدلوك الشمس، بنی اسرائیل ۷۸) ظہر ۳۔ غروب آفتاب سے پہلے (قبل غروبها، طه ۱۳۰) عصر ۴۔ جب شام ہوتی ہے (حين تمسون، الروم ۱۷) مغرب ۵۔ جب رات تاریک ہو جائے (الی غسق الليل، بنی اسرائیل ۷۸) عشاء
‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues