نماز کا حکم قرآن میں
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۸
اس طرح قرآن سے پانچ نمازیں مع تعئین اوقات ثابت ہو جاتی ہیں۔
اس کے علاوہ قرآن میں ایسی آیت بھی موجود ہے جس سے صرف استنباط کے طور پر نہیں بلکہ صراحت کے ساتھ یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے اوپر جو نمازیں فرض کی ہیں وہ محمد و طور پر پانچ ہیں۔ اس سلسلہ میں قرآن کی اس آیت پر غور کیجئے: حافظوا علی الصلوات والصلوة الوسطیٰ (البقرہ ۲۳۸) یعنی پابندی کرو نمازوں کی اور پابندی کرو بیچ کی نماز کی۔
جملہ کی ترتیب بتا رہی ہے کہ اس آیت میں صلوۃ وسطیٰ کا لفظ جس نماز کے لئے آیا ہے وہ صلوات سے علیحدہ ایک نماز ہے۔ یعنی یہ کہا گیا ہے کہ ”نمازوں“ کی پابندی کرو اور اسی کے ساتھ اُس نماز کی جس کا وقت ”نمازوں“ کے بیچ میں آتا ہے۔ صلوات جمع کا لفظ ہے جو عربی قواعد کے مطابق تین یا اس سے زیادہ نمازوں کے لئے ہے۔ استعمال بتاتا ہے کہ یہاں اس سے تین سے زیادہ نمازیں مراد لینا ضروری ہے۔ کیوں کہ تین کے عدد میں کوئی چوتھی چیز رکھی جائے تو وہ اس کا ”بیچ“ نہیں بن سکتی۔ کم از کم عدد جو یہاں صلوات سے مراد ہو سکتا ہے وہ چار ہے۔ چار کا عدد لینے کی صورت ہی میں یہ ممکن ہے کہ ایک اور نماز اس میں اس طرح شامل کی جائے کہ وہ اس کا بیچ بن جائے۔ گویا صلوٰۃ وسطیٰ وہ بیچ کی نماز ہے جس کے دونوں طرف دو دو نمازیں ہیں۔ باعتبار مفہوم آیت کا ترجمہ یہ ہوگا ـ ”بیچ کی نماز کی پابندی کرو اور بیچ کی نماز سے پہلے دو نمازوں کی اور بیچ کی نماز کے بعد دو نمازوں کی۔ “ اس سے صاف طور پر یہ نظام معلوم ہوتا ہے کہ رات میں دو نمازیں مقرر کی گئی ہیں اور پھر دن میں دو نمازیں ۔ اور ان کے بیچ میں ایک نماز ہے۔ رات کی دو نمازوں سے مراد مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں۔ دن کی دو نمازوں سے مراد فجر اور ظہر اور بیچ کی نماز سے مراد عصر کی نماز ہے۔ اس طرح کل پانچ نمازیں ہو جاتی ہیں۔ ملاحظہ ہو نقشہ ذیل :
دن کی دو نمازیں (صلوۃ وسطیٰ)
رات کی دو نمازیں فجر ظہر عصر مغرب عشاء پابندی کرو نمازوں کی اور پابندی کرو اس نماز کی جو نمازوں کے بیچ میں ہے (قرآن)
‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues