وضوء کی برکت
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۱۰
وضوء کی برکت
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے وضو کیا۔ پھر بہتر طریقہ پر وضو کیا، اس سے اس کی خطائیں جاتی رہتی ہیں۔ حتیٰ کہ ناخن کے نیچے کی بھی (من توضأ فأحسن الوضوء خرجت خطایاہ حتی تخرج من تحت اظفاره، رواه مسلم)
بہتر وضوء سے کیا مراد ہے، اس کی وضاحت دوسری روایتوں سے ہوتی ہے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے۔ پھر وہ اس کو پوری طرح کرے، اس کے بعد وہ کہے کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ ایک اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، وہ جس دروازہ سے چاہے داخل ہوجائے (ما منكم من احد يتوضأ فيبلغ الوضوء ثم قال : اشهد ان لا إله إلا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمداً عبده ورسوله الا فتحت له ابواب الجنة الثمانية يدخل من ايها شاء، رواه مسلم)
اسی طرح حدیث میں ہے کہ کوئی شخص جب وضو کرے تو اس کے بعد یہ دعا پڑھے کہ خدایا مجھ کو تو بہ کرنے والوں میں سے بنا، اور مجھ کو پاک صاف لوگوں میں سے بنا( اللہم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين، الترمذی) ایک اور روایت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اس کے بعد آپ کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ خدایا، مجھے خطاؤں سے پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا دھو کر میل سے پاک کر دیا جاتا ہے (اللهم نقني من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس)
مختلف روایتوں میں یہ بات مختلف انداز سے بتائی گئی ہے کہ وضو سے آدمی کے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ وضو اس کے گناہوں کے میل کو دھو تا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے
‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues