نماز کا حکم قرآن میں
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۹
مذکورہ آیت کی یہ تشریح صحابہ اور تابعین سے بھی ثابت ہے، مثال کے طور پر مسند احمد اور سنن ابی داؤد کی روایت کے مطابق حضرت زید ابن ثابت انصاریؓ نے کہا کہ صلوٰۃ وسطیٰ سے مراد بیچ کی نماز ہے جس کے اول بھی دو نمازیں ہیں اور اس کے بعد بھی دو نمازیں ہیں (إن قبلها صلاتين و بعدها صلاتين) تفسیر ابن کثیر ا/ ۲۹۰۔
اسی طرح نحاس تابعی کا قول ہے کہ الصلوٰۃ الوسطیٰ سے مراد عصر ہے۔ کیوں کہ اس سے پہلے دن کی دو نمازیں ہیں، اور اس کے بعد رات کی دو نمازیں ہیں، انها العصر ، لأن قبلها صلاتي نهار و بعدها صلاتي ليل (الجامع لاحکام القرآن للقرطبی، ۳/ ۲۱۰)۔ نمازوں میں سے ایک نماز کو بیچ کی نماز ، الصلوٰۃ الوسطیٰ کہنا لازمی طور پر نماز کے متعدد ہونے کو ثابت کرتا ہے اور آیت کے الفاظ کے مطابق جب اس تعدد کو متعین کیا جائے تو لازمی طور پر وہ پانچ کا عدد بنتا ہے ۔ پانچ سے کم کا عدد دینے کی صورت میں آیت کی تشریح ممکن نہیں۔
نماز کی اصل اللہ کی یاد ہے۔ مگر اس کا نظام ایسی حکمت کے ساتھ بنایا گیا ہے کہ زندگی کے تمام تقاضے نہایت جامعیت کے ساتھ اس میں شامل ہو گئے ہیں۔ نماز اتحاد اور اجتماعیت کا سبق ہے۔ وہ بندے کو اپنے رب سے جوڑتی ہے۔ وہ ہمارے اندر ذمہ داری کا احساس پیدا کرتی ہے۔ وہ ہمارے اوقات کو منظم کرتی ہے۔ وہ ہلکی جسمانی ورزش کا فائدہ دیتی ہے۔ وہ بار بار ہماری صفائی کرتی رہتی ہے ، وغیرہ۔ حقیقت یہ ہے کہ نماز ہر قسم کی روحانی اور جسمانی برکتوں کا مجموعہ ہے۔ مسلمان اگر حقیقی شعور کے ساتھ نماز پر قائم ہو جائیں تو ان کی دنیا بدل جائے اور وہی ان کے تمام مسائل کے حل کے لئے کافی ہو جائے۔
پانچ نمازیں اہل ایمان کے لئے نظام الاوقات کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس میں یہ سبق ہے کہ اہل ایمان کو چاہئے کہ وہ اپنے کاموں کو پانچ حصوں میں منظم کر لیں۔ یعنی کچھ کام فجر اور ظہر کے درمیان اور کچھ کام ظہر اور عصر کے درمیان اور کچھ کام عصر اور مغرب کے درمیان اور کچھ کام عشاء اور فجر کے درمیان۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues