Al-Risala · December 2000 · page 13

نماز کی حقیقت

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۱۳

رب کے پاس اس حال میں پہنچتا ہے کہ وہ بالکل پاک صاف ہوتا ہے اور اس کو جنت میں داخل کر دیا جاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پانی سے ہاتھ پاؤں کو دھونا اپنے آپ آدمی کو گناہوں سے پاک کر دیتا ہے۔ خطا اور گناہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے قلبی اعمال ہیں۔ ان کا تعلق آدمی کی نیت اور ارادہ سے ہے۔ اس لیے وہ اسی وقت دھل سکتے ہیں جب کہ آدمی کا قلب دھل جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی روایتیں اس انسان کے لیے ہیں جس کا جسمانی وضو اس کے لیے روحانی وضو بن جائے۔ جو وضو کا عمل اس طرح کرے کہ اسی کے ساتھ اس کا قلب اور ذہن بھی دھلتا چلا جائے، جس کی نفسیات اس کے وضو میں شامل ہو گئی ہو۔ ایک شخص جس کے دل میں اللہ کا خوف اور آخرت کا فکر سمایا ہوا ہو، وہ جب وضو کرتا ہے تو اس کے اندرونی احساسات کے اثر سے اس کا وضو کا عمل ایک ربانی عمل میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس کا مادی عمل اس کی روحانی کیفیات کے ساتھ مل جاتا ہے۔ اس کے ہاتھ وضو کے ظاہری عمل میں مشغول ہوتے ہیں اور اس کا ذہن دعا اور ذکر کے باطنی عمل میں۔ وہ پکار اٹھتا ہے کہ خدایا! ۔ جس ہاتھ اور پاؤں اور چہرے کو آپ نے آج کے دن پانی سے دھویا ہے، اس کو کل کے دن اپنی رحمت سے دھو دیجیے۔ جس جسم کو آپ نے دنیا میں مادی اعتبار سے پاک کیا ہے، اس کو قیامت کے دن اپنی رحمت اور مغفرت کے نورانی غسل سے پاک کر دیجیے۔

جب ظاہری وضو کے ساتھ یہ باطنی وضو مل جائے تو یہی وہ وضو ہے جس کے بعد آدمی کے لیے جنت کے سب دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اس سے کہہ دیا جاتا ہے کہ تم جس دروازہ سے چاہو داخل ہو جاؤ۔

جسمانی وضو جسم کی پاکی ہے، اور روحانی وضو روح کی پاکی۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues

Printed page