نماز میں خشوع
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۱۴
نماز میں خشوع
"نماز دراصل وہی ہے جو خشوع کی نماز ہو، ایک صاحب نے کہا " میں جب نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہوں تو بہت کوشش کرتا ہوں کہ خشوع کے ساتھ نماز پڑھوں۔ مگر میری نماز خشوع کی نماز نہیں بنتی۔ "
جواب یہ ہے کہ خشوع کی نماز اس طرح کسی کو حاصل نہیں ہوتی کہ جب وہ نماز کے لئے کھڑا ہو تو اپنے اوپر خشوع طاری کرنے کی کوشش کرے۔ نماز کا خشوع دراصل ایک مسلسل واقعہ کا وقتی ظہور ہے۔ آدمی جب نماز سے پہلے کی زندگی میں اللہ کے آگے اپنے کو جھکائے ہوئے ہو تو اس کا یہ جھکاؤ اس کی نماز میں مزید کیفیات کے ساتھ ابھر کر رہہ جاتا ہے جسے ہم کو خشوع کہتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر آدمی کا حال یہ ہو کہ وہ نماز سے باہر غیر خاشعانہ زندگی گزار رہا ہو تو نماز میں وقتی طور پر وہ خاشع نہیں بن سکتا۔ ایک شخص ہے جس سے کسی کو محبت ہے تو اس محبت کرنے والے کے ساتھ ہی یہ واقعہ پیش آئے گا کہ اس کی یاد سے اس کا دل بھر آئے ۔ اس کے برعکس جس کو اس شخص سے کوئی لگاؤ نہ ہو وہ دوقتی تدبیر سے اس کی خاطر رونے والا نہیں بن سکتا ۔
ایک شخص لوگوں کے درمیان تواضع کا طریقہ اختیار کرتا ہے اور دوسرا شخص ڈھٹائی کا ۔ ایک شخص معاملات میں انصاف کرتا ہے اور دوسرا بے انصافی سے پیش آتا ہے۔ ایک عاجزانہ نفسیات کے ساتھ جی رہا ہے اور دوسرا متکبرانہ نفسیات کے ساتھ۔ ایک شخص اعتراف وتسلیم کو اپنا طریقہ بنائے ہوئے ہے اور دوسرا ہٹ دھرمی اور انکار کو، تو یہ نا ممکن ہے کہ دونوں کی نمازیں یکساں قسم کی ہوں۔ ان میں صرف پہلا شخص ہے جس کی نماز خشوع کی نماز بنے گی۔ دوسرا شخص خواہ کتناہی چاہے یہ نا ممکن ہے کہ وقتی طور پر ہاتھ باندھ کر اور قبلہ رو ہو کر وہ اپنی نماز کو خشوع کی نماز بنا لے۔ خشوع کی نماز در اصل خاشعانہ زندگی کا ایک وقتی مظہر ہے۔ جو شخص اپنی زندگی میں خاشع نہ بنا ہو وہ کبھی خشوع کی نماز نہیں پڑھ سکتا۔
مجھے ایک بار معلوم ہوا کہ ایک محلہ کے دو مسلمانوں میں جھگڑا ہے۔ جھگڑا صرف شان کا تھا نہ کہ کسی واقعی مسئلہ کا۔ میں اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ان میں سے ایک شخص کے پاس گیا جو حیثیت میں زیادہ بڑے تھے۔ ہم نے ان کی بنائی ہوئی شاندار مسجد میں مغرب کی نماز ادا کی یہیں مسجد میں مذکورہ بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ وہ بہت خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آئے۔ مگر جب ہم نے بتایا کہ ہم اس لئے آئے ہیں کہ آپ سے درخواست کریں کہ آپ فلاں مسلمان سے اپنا جھگڑا ختم کر دیں تو اچانک ان کا لہجہ بدل گیا ۔ وہ کسی قیمت پر اپنے مسلمان بھائی کے آگے ” جھکنے “ پر راضی نہ ہوئے۔ ان کی گفتگو سے ان کی جس نفسیات کا اندازہ ہورہا تھا وہ یہ تھی کہ ۔ میرے پاس پیسہ ہے۔ میرے ساتھ اعوان وانصار ہیں۔ میں نے ایک شاندار مسجد کھڑی کر کے جنت خرید لی ہے، پھر مجھے کسی کے آگے جھکنے کی کیا ضرورت ۔ مگر یہی نفسیات سب سے زیادہ خشوع کی قاتل ہے جو شخص بندوں کے درمیان جھکی ہوئی زندگی گزار نہ رہا ہو وہ خدا کے سامنے بھی جھکنے والا نہیں بن سکتا۔ جو شخص اپنی صبح و شام کی زندگی میں خاشع نہ ہو وہ مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے بھی خشوع کا تجربہ نہیں کر سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues