Al-Risala · December 2000 · page 15

اللہ کے لئے جھکنے والے

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۱۵

اللہ کے لئے جھکنے والے

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں جب حقیقت سے پردہ اٹھایا جائے گا اور لوگ سجدہ کے لئے بلائے جائیں گے تو وہ لوگ سجدہ نہ کر سکیں گے جو اللہ کے سچے بندے نہ بنے تھے۔ ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی اور ان پر ذلت چھارہی ہوگی۔ یہ حال ان لوگوں کا ہوگا جن کو دنیا میں سجدہ کے لئے بلایا جاتا تھا مگر وہ سجدہ نہ کرتے تھے (قلم ۴۳) قیامت میں انسان کو جور سوائی اور عذاب ہوگا اس کی سب سے بھیانک صورت وہ ہوگی جب کہ مالک کائنات اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ظاہر ہوگا۔ وہ خدا جس نے ہم کو پیدا کیا، جس کے کھلانے سے ہم کھاتے ہیں اور جس کے چلانے سے ہم چلتے ہیں جس نے ہم کو وہ سب کچھ دیا ہے جو ہمارے پاس ہے۔ ایسا عظیم اور محسن خدا بے پردہ انسان کے سامنے ہوگا۔ ایک طرف انسان ہوگا جس کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ دوسری طرف خدا ہو گا جس کے پاس ساری طاقتیں ہیں۔ انسان کا عجز اور خدا کی قدرت دونوں اپنی کامل صورت میں سامنے ہوں گی۔ اس وقت انسان چاہے گا کہ خدا کی عظمت و جلال کے آگے جھک جائے مگر وہ جھک نہ سکے گا۔ وہ چاہے گا کہ اس کی خدائی کے آگے اپنی بندگی کا اظہار کرے مگر وہ اس اظہار پر قادر نہ ہوگا حتیٰ کہ اپنے آقا اور محسن کے لئے حمد کے کلمات ادا کرنے سے بھی اس کی زبان گونگی ہو جائے گی۔ ایک طرف اللہ کے سچے بندے اپنے رب کے آگے اپنے کو ڈال کر حقیقت کا اعتراف کر رہے ہوں گے۔ دوسری طرف وہ ذلت ورسوائی کا مجسمہ بنا ہوا کھڑا ہوگا۔ یہ ایسا ہولناک لمحہ ہوگا کہ انسان چاہے گا کہ کاش زمین پھٹ پڑے اور وہ اس کے اندر دھنس جائے۔ اس سے بڑی ذلت اور کیا ہو سکتی ہے کہ بندہ اپنے خالق اور مالک کے سامنے ہو مگر وہ اس کے آگے اپنی بندگی کا اقرار نہ کر سکے۔ واضح ہو کہ یہ حال صرف معروف قسم کے کافروں یا بے نمازیوں کا نہ ہوگا بلکہ ان لوگوں کا بھی ہوگا جو محض ظاہری سجدہ کرتے تھے، ان کی روح اللہ کے لئے ساجد نہیں بنی تھی۔ جنہوں نے وہ سجدہ نہیں کیا جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ بندہ اپنے پورے وجود کے ساتھ اپنے آپ کو اللہ کے آگے ڈال دے۔ وہ بہر تن اس کے آگے جھک جائے۔ بخاری نے ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا :

یکشف ربنا عن ساقہ فیسجد لہ کل مومن و اللہ قیامت کے دن اپنے آپ کو ظاہر کرے گا۔ اس وقت مومن مرد مومنۃ ويبقى من كان يسجد في الدنياء و سمعة اور عورتیں اللہ کے لئے سجدہ میں گر جائیں گے مگر جو شخص دنیا میں فيذهب ليسجد فيعود ظهره طبقا واحدا دکھانے اور سنانے کے لئے سجدہ کرتا تھا وہ سجدہ میں جانا چاہے گا (تفسیر ابن کثیر) مگر سجدہ نہ کر سکے گا اس کی پیٹھ اکڑ جائے گی۔

زندگی میں بار بار وہ لمحہ آتا ہے جب کہ ایک طرف آدمی کی انا ہوتی ہے اور دوسری طرف اللہ کا حکم ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر جو شخص انانیت کا راستہ اختیار کرے اور اللہ کے حکم کے آگے نہ جھکے اس نے اللہ کو سجدہ نہیں کیا۔ اگر وہ متعین اوقات میں بظاہر سجدہ کر رہا ہو تب بھی حقیقت کے اعتبار سے وہ سجدہ نہ کرنے والوں میں شامل ہے۔ اس نے ایسا سجدہ کیا ہے جو دنیا میں دیکھنے اور سننے والوں کو تو سجدہ معلوم ہوتا ہے مگر اللہ کی نظر میں وہ سجدہ نہیں۔ ایسے تمام لوگ آخرت میں اس اصلی حالت میں نمایاں ہو جائیں گے جہاں وہ باعتبار حقیقت دنیا میں تھے۔ دنیا میں ان کے سامنے اللہ کا حکم آیا مگر انھوں نے اس کو نظر انداز کیا۔ دنیا

‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues

Printed page