Al-Risala · December 2000 · page 25

رمضان کا روزہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۵

رمضان کا روزہ

دہلی کے ایک مسلمان تاجر جناب محمد عثمان صاحب سے ۲۹ نومبر ۱۹۹۳ کو ملاقات ہوئی۔ گفتگُو کے دوران انھوں نے کہا کہ روزہ ہر قسم کی ایمرجنسی کا سامنا کرنے کی تربیت ہے۔ روزہ کی اس تشریح کی تصدیق ایک حدیث سے ہوتی ہے جس میں روزہ کو صبر کا مہینہ (شہر الصبر) کہا گیا ہے۔ صبر کے اصل معنیٰ ہیں رک جانا۔ صبر کا لفظ جزع کا نقیض ہے۔ الجوہری نے کہا کہ صبر کا مطلب ہے جزع کے وقت اپنے آپ کو تھامنا (الصبر حبس النفس عند الجزع)

زندگی میں ہمیشہ خلافِ مزاج باتیں پیش آتی ہیں۔ زندگی نام ہے ناموافق باتوں کا سامنا کرتے ہوئے سفرِ حیات طے کرنے کا۔ جو آدمی جتنا زیادہ با مقصد اور جتنا زیادہ با اصول ہو اتنا ہی زیادہ اس کو اپنی پسند کے خلاف چیزوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس صفت کی ضرورت دنیوی معاملات میں بھی پیش آتی ہے اور دینی معاملات میں بھی۔ روزہ اسی قسم کی صابرانہ زندگی کی تربیت ہے۔ روزہ میں آدمی کے معمولات ٹوٹتے ہیں۔ وقت پر کھانا اور وقت پر سونا اس کو میسر نہیں آتا۔ مسلسل ایک مہینہ تک اس کو بھوک، پیاس، بے خوابی جیسے تجربات سے سابقہ پیش آتا ہے۔ طبیعت کے خلاف عمل کرنے کی وجہ سے اس کے اندر جھنجھلاہٹ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، مگر اس پر بھی اس کو صبر کر لینا پڑتا ہے۔ برداشت کی اس زندگی کو خود اپنے ارادہ سے اختیار کرنے کا نام روزہ ہے۔ لوگ مجبوراً صبر کرتے ہیں، روزہ دار اختیارانہ صبر کرتا ہے۔ جن چیزوں کو لوگ دباؤ کے تحت چھوڑتے ہیں، روزہ دار ان چیزوں کو اصول کی خاطر چھوڑ دیتا ہے۔ جس صابرانہ روش کو لوگ ذاتی مفاد کے لیے اختیار کرتے ہیں، اس صابرانہ روش کو روزہ دار خدا کی مرضی کے لیے اختیار کرتا ہے۔ دوسروں کا صبر اگر اپنی ذات کے لیے ہے تو مومن کا صبر خداوند ذوالجلال کے لیے۔ روزہ ایک بے روح رسم نہیں، وہ ایک زندہ تربیت ہے جس کا تعلق پوری انسانی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔

رمضان کے مہینہ میں جو آدمی اس کورس کو صحیح طور پر مکمل کرلے وہ اس کے بعد پورے سال کے لیے ایک ایسا انسان بن جائے گا جو ہنگامی حالات میں بھی معتدل زندگی گزارے، جو بے صبری کے موقع پر بھی صابر انسان بنا رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues

Printed page