رمضان کا روزہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۶
روزہ کا مقصد آدمی کی روحانیت کو جگانا اور اس کو رہائی انشا ں • ناتاب • لمی اور اس کو ربانی انسان بناتا ہے۔
قرآن میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ۔ ۔۔ تم لوگ ربانی بنو ( آل عمران ۷۹ ) اس کا مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رب والے بن کر زندگی گزارو۔ خود سب یا ہے ۔ اس یا ہے سب یہ ہے کہ رب دات ہے یا اللہ پرستی کی زندگی کو چھوڑ کر خدا پرستی کی زندگی اختیار کرو۔ دات بن زردی دور کرنے کے لئے دو مفید ہے کہ اس سے مشہ شت گنوارے دنیا میں زندگی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے اپنی خواہشوں کے زیر اثر زندگی گزارنا۔ اور دوسرا ہے خدا کی مرضی کے زیر اثر زندگی گزارنا۔ ربانی انسان وہ ہے جو خدا کو اپنا سب کچھ بنالے۔ وہ اسی کی یاد میں جئیے۔ وہ ہر معاملہ میں خدا کی مرضی کو جاننے کی کوشش کرے اور جو خدا کی مرضی ہو اس پر اپنی زندگی کو ڈھال لے۔ اس کے اپنے آپ میں جیتا ہو۔ جس کے لئے اس کی خواہش ہی سب ہر عکس غیر ربانی انسان وہ ہے جو کچھ ہوتا ہے جو اپنی خواہشوں کی تکمیل کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے ہو ۔
رمضان کے مہینے کا روزہ کسی آدمی کو ربانی انسان بنا نکار تہت ہے۔ روزہ آدمی کی رمضان کے ہے ۔ روزہ صیادی و ربانی انسان بنانے کی تربیت ہے۔ روزہ آدمی کی ذاتی خواہشوں پر پابندی لگاتا ہے ۔ روزہ یہ سبق دیتا ہے کہ اپنی ذات کے لیے جینے کے بجائے خدا کے لئے جیو۔ اپنی خواہشوں کو سب کچھ سمجھنے کے بجائے صرف خدا کو اپنا سب طفلی میں جو محبت حاصل ہو جاتی ہے، اس کی قیمت زندگی بھر رہتی ہے کچھ بنالو۔
رونے آدمی کی گانٹھ میں نیکی کے سوا اورکیا ہے باہر آنے پچھ میں گولیوں کی آوازیں نے بنائی انسان بنا نے کے لیے سالانہ تربیت ہے۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو روزہ کی رو بازی ہوں ۔۔۔
کے لئے دنیا اور آخرت کی کامیابیاں مقدر کی گئی ہیں۔ دُو، صو، و لِگ ی ،ںے س س ل ٹ س پ
‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues