رمضان کا روزہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۲۷
روزہ کیا ہے ..... روزہ اخلاقی ڈسپلن کی سالانہ تربیت ہے نظم یا ڈسپلن ہر معاملہ میں کامیابی کے لئے ضروری ہے، خواہ وہ دنیا کا معاملہ ہو یا دین کا معاملہ۔ نظم یا ڈسپلن صحتِ کار کی ضمانت ہے۔ کسی کام کی بخوبی ادائیگی اس کے بغیر ممکن نہیں۔ اسلام میں نماز کو مقررہ اوقات میں فرض کیا گیا ہے۔ روزہ اور دوسری عبادات بھی مقررہ تاریخوں میں اور مقررہ وقت پر ادا کی جاتی ہیں ۔ یہی معاملہ تمام دینی اعمال کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نظم اور ڈسپلن کے بغیر کوئی بھی اسلامی عمل صحیح طور پر ادا نہیں کیا جاسکتا۔ روزہ نظم اور ڈسپلن کی اسی اسپرٹ کو پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔ رمضان کا پورا مہینہ روزہ دار کو سخت ڈسپلن کے تحت گزارنا ہوتا ہے ۔ سونا اور جاگنا، کھانا اور پینا، غرض ہر مشغولیت کو ایک سخت قسم کے نظام الاوقات کے تحت انجام دینا ہوتا ہے۔ اس طرح کی ایک منظم زندگی پورے مہینہ تک جاری رہتی ہے۔ اس طرح کی ایک ماہانہ زندگی آدمی کو اس قابل بنا دیتی ہے کہ وہ سال کے بقیہ مہینوں میں بھی نظم اور ڈسپلن کے تحت زندگی گزارے۔ روزہ ایک مومن کے لئے اخلاقی ڈسپلن کی سالانہ تربیت ہے۔ روزہ آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا کرتا ہے کہ وہ دنیا میں اس طرح رہے کہ وہ ایک با اصول انسان بنا ہوا ہو۔ وہ اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے کنٹرول میں دیئے ہوئے ہو۔
روزہ خود انضباطی (سیلف کنٹرول) کی مشق ہے۔ وہ ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کی ایک سالانہ تربیت ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues