Simple living and high thinking
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۳
اندر تقویٰ پیدا ہو۔ تقویٰ کے مختلف پہلو ہیں۔ اس کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ آدمی کے اندر روحانی صفات پیدا ہوں ۔ وہ روحانی ترقی (spiritual development) کا درجہ حاصل کرے۔
روحانیت ایک فطری صفت ہے۔ وہ ہر انسان کے اندر پیدائشی طور پر موجود رہتی ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں بار بار ایسی باتیں پیش آتی ہیں جو فطرت کے اس عمل میں رکاوٹ (distraction) پیدا کرنے والی ہوں۔ انھیں میں سے ایک کھانا پینا بھی ہے۔ آدمی صبح سے شام تک مختلف صورتوں میں کچھ نہ کچھ کھاتا پیتا رہتا ہے۔ یہ کھانا پینا فطرت کے اس عمل کے راستہ میں ایک مستقل خلل اندازی ہے۔ چنانچہ ایک مہینہ کے لیے دن کے اوقات میں اس خلل اندازی پر روک لگا دی جاتی ہے تاکہ روحانی ارتقاء کا عمل آدمی کے اندر بے روک ٹوک جاری ہو سکے۔
حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کے نزدیک روزہ دار کے منہ کی بو مشک کی خوشبو سے زیادہ اچھی ہے (ولخلوف فم الصائم عند الله أطيب من ريح المسك) مشکاۃ المصابیح ۱/۶۱۱ اس حدیث میں گویا خو شبو کا لفظ محض لفظی معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ علامتی معنی میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روزہ کا ظاہری پہلو اگرچہ نا خوش گوار ہے اس کا اندرونی پہلو خوش گواریوں سے بھرا ہوا ہے۔ بھوک پیاس کا پر مشقت تجربہ آدمی کے اندر اس کی روحانیت کو جگاتا ہے۔
انسان جسم اور روح کا مجموعہ ہے۔ اس کے اندر مادیت بھی ہے اور روحانیت بھی۔ روحانیت کی ترقی ہمیشہ اس وقت ہوتی ہے جب کہ مادیت کے عنصر کو دبایا جائے۔ روزہ اسی قسم کی ایک تدبیر ہے۔ روزہ کا مقصد آدمی کو اس کے لیے تیار کرنا ہے کہ وہ اپنی روحانیت کا محافظ بن جائے۔ وہ اس مقصد کے لیے اپنی مادی ضرورتوں میں کمی کرے ، خواہ کمی کرنے کا یہ عمل کھانے اور پینے جیسی ناگزیر انسانی ضروریات تک کیوں نہ پہنچ جائے۔
۲۔ حدیث میں روزہ کو شہر الصبر کہا گیا ہے۔ یعنی صبر کا مہینہ۔ اس سے روزہ کا ایک اور اہم پہلو معلوم ہوتا ہے۔ اور وہ صبر و ضبط ہے۔ صبر کیا ہے۔ صبر یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو قابو میں رکھے۔ وہ بے قید زندگی کے مقابلہ میں پابند زندگی کا طریقہ اختیار کرے۔ اس اعتبار سے روزہ خود انضباطی (self-discipline) کی مشق ہے جو صالح زندگی گزارنے کے لیے انتہائی طور پر ضروری ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues