Al-Risala · December 2000 · page 34

Simple living and high thinking

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۴

حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو آدمی روزہ رکھ کر جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پینا چھوڑے (مشکوۃ المصابیح ۱/۶۲۳) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ میں کھانے پینے کا ترک ایک علامتی ترک ہے۔ یہ علامتی ترک اس بات کا سبق ہے کہ آدمی ہر قسم کے جھوٹ اور برائی کو چھوڑ دے۔ وہ اپنے معاملات میں اخلاقی پابندی کا طریقہ اختیار کرے۔

اس طرح روزہ انسان کو سماج کا ایک صالح ممبر بناتا ہے۔ وہ انسان کو اس مقصد کے لیے تربیت دیتا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان اعلیٰ کردار کے ساتھ زندگی گزارے اور پست کرداری کا طریقہ چھوڑ دے۔ ۳۔ حدیث میں روزہ کے مہینہ کو شہر المواساة (هو شهر المواساة) کہا گیا ہے۔ یعنی دوسروں کی ہمدردی کا مہینہ (مشکوة المصابیح ۱/۶۱۳)

اس پہلو کو دوسرے لفظوں میں انسانی خدمت کہا جا سکتا ہے۔ اس اعتبار سے روزہ کا مقصد یہ ہے کہ وہ روزہ دار کے اندر انسانیت کا درد پیدا کرے۔ وہ دنیا میں صرف اپنے لیے نہ جئے بلکہ دوسروں کے لیے جینا سیکھے۔ حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت میں انسان سے فرمائے گا کہ میں تمہارے پاس بھوکا آیا مگر تم نے مجھے کھانا نہیں کھلایا۔ بندہ کہے گا کہ خدا یا تو رب العالمین ہے تو کیسے بھوکا ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب آئے گا کہ میرا فلاں بندہ بھوک کی حالت میں تیرے پاس آیا تھا اگر تو اس کو کھلاتا تو مجھ کو تو اس کے پاس پاتا (صحیح البخاری، کتاب المرض)

انسان کے انسان ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ وہ دوسرے انسانوں کی ضروریات میں ان کے کام آئے۔ وہ سماج کے اندر اس طرح زندگی گزارے کہ دوسروں کی حاجتوں کو پورا کرنا بھی اس کی زندگی کے پرو گرام کا ایک جزء بنا ہوا ہو۔ یہ انسانی صفت اس کے اندر ہو سکتی ہے جو دوسروں کی تکلیفوں کو اپنے سینے میں محسوس کرے_ روزہ گویا یہی کیفیت پیدا کرنے کی ایک تربیت ہے۔ روزہ کے ذریعہ بھوک اور پیاس کے تجربہ کو انسان کا ذاتی تجربہ بنا دیا گیا۔ حاجت مند کے درد کو حاجت براری کرنے والے کے دل میں اتار دیا گیا تاکہ وہ انسانی خدمت کی راہ میں زیادہ سے زیادہ سرگرم ہو سکے۔

۴۔ رمضان کا ایک اور پہلو وہ ہے جس کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر ۹۷ میں آیا ہے۔ اس میں ارشاد ہوا ہے کہ قرآن کو اللہ تعالیٰ نے لیلۃ القدر (شب قدر) میں اتارا۔ یعنی وہ رات جب کہ سال بھر کے متعلق

‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues

Printed page