Al-Risala · December 2000 · page 38

ہمدردی کا مہینہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۸

ہمدردی کا مہینہ

روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رمضان کا مہینہ شہر المواسات ہے۔ (مشکوۃ المصابیح ا/۴۱۳) یعنی لوگوں کی مدد کرنے اور لوگوں کے ساتھ ہمدردی کرنے کا مہینہ۔ یہ روزہ کا وہ پہلو ہے جس کو انسانی پہلو کہا جا سکتا ہے۔

چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ کے مہینہ میں بہت زیادہ صدقہ کرتے تھے۔ اس مہینہ میں کوئی بھی سوال کرنے والا آپ کے یہاں سے خالی ہاتھ واپس جاتا تھا۔ اسی طرح حدیث میں ہے کہ روزہ کے مہینہ میں جو شخص کسی کو کھلائے تو وہ اس کے لئے مغفرت کا ذریعہ ہوگا۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ جو شخص کسی روزہ دار کو کھلائے گا تو وہ بھی اس روزہ کے ثواب میں شریک ہو جائے گا (۶۲۱)

روزہ کے مہینہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس میں آدمی بھوک پیاس کا ذاتی تجربہ کرتا ہے۔ یہ تجربہ امیر اور غریب دونوں کو یکساں طور پر ہوتا ہے۔ یہ تجربہ صرف ایک بار وقتی طور پر نہیں ہوتا بلکہ مسلسل ایک مہینہ تک ہر روز اس کو اس خصوصی کورس سے گزرا اجاتا ہے۔ اس طرح روزہ ہر آدمی کو یہ تجربہ کہ آتا ہے کہ انسانی ضرورتیں کیا ہیں۔ وہ بتاتا ہے کہ پیاس کیا ہے اور بھوک کیا چیز ہے۔ جو لوگ عام حالات میں بھوک پیاس کو محسوس نہیں کر پاتے وہ بھی رمضان کے مہینہ میں ذاتی طور پر اس کا تجربہ کر لیتے ہیں۔ اس طرح روزہ ہر آدمی کو ایک سطح پر پہنچا دیتا ہے۔ امیر آدمی بھی کچھ دیر کے لئے اسی حالت پر پہنچ جاتا ہے جس حالت پر ایک غریب آدمی جی رہا تھا۔

اس طرح ہر آدمی کی انسانیت جاگ اٹھتی ہے۔ ہر آدمی دوسروں کے احساس میں شریک ہو جاتا ہے۔ ہر آدمی کے اندر یہ جذبہ ابھرتا ہے کہ وہ دوسروں کی ضرورت میں ان کے کام آئے۔ وہ بقدر استطاعت دوسروں کی مدد کرے۔ اس طرح روزہ ایک دوسرے کی ہمدردی اور ایک دوسرے کی مدد کا ایک عام جذبہ پیدا کر دیتا ہے جو رمضان کے بعد بھی مہینوں تک باقی رہتا ہے۔ یہاں تک کہ سال بھر پورا ہو کہ پھر دوسرا رمضان آجاتا ہے جو دوبارہ آدمی کے اندر وہی انسانی جذبات ابھار دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues

Printed page