Al-Risala · December 2000 · page 39

دو فرحتیں

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۰، صفحہ ۳۹

دو فرحتیں

حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : للصائم فرحتان يفرحهما۔ اذا افطر فرح و اذا القی ربه بصومه۔ یعنی روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ خوش ہو گا۔ جب وہ افطار کرتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے۔ اور جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزہ کے انعام پر خوش ہو گا (فتح الباری ۳/ ۴۸۱ ، صحیح مسلم بشرح النووی ۸ / ۳۱ )

روزہ دار دن بھر بھوکا پیاسا رہتا ہے۔ اس کے بعد شام کو جب وہ افطار کرتا ہے اور کھانا اور پانی اس کے جسم میں داخل ہوتا ہے تو قدرتی طور پر اس کو خوشی حاصل ہوتی ہے۔ پھر موت کے بعد آخرت میں جب یہ روزہ دار اللہ سے ملے گا اور اللہ اس کی روزہ داری کے بدلے میں اس کو جنت میں داخل کرے گا تو اس وقت مزید اضافہ کے ساتھ اس کو کامل خوشی حاصل ہو گی۔ حقیقت یہ ہے کہ روزہ دنیا کی زندگی کی علامت ہے اور افطار آخرت کی زندگی کی علامت۔ دنیا میں مومن کو ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانا ہے اور قربانیوں کو برداشت کرنا ہے۔ لذتوں سے محروم ہو کر اس کو خدا کی اطاعت کرنا ہے۔ مگر آخرت کا معاملہ اس سے مختلف ہوگا۔ وہاں اس کے لئے خوشیاں ہی خوشیاں ہیں اور وہاں اس کے لئے آرام ہی آرام۔ اس طرح روزہ علامتی طور پر مومن کی دنیا کا تعارف ہے ، اور افطار علامتی طور پر مومن کی آخرت کا تعارف۔ دنیا کی زندگی ، مومن کے لئے فاقہ کی زندگی ہے ، اور آخرت کی زندگی ، مومن کے لئے اکل و شرب کی زندگی۔ دنیا میں مومن کے لئے ذمہ داریاں ہی ذمہ داریاں ہیں ، اور آخرت میں مومن کے لئے انعام ہی انعام۔

روزہ آدمی کو احساس دلاتا ہے کہ دنیا میں اسے قربانیوں کی حد تک جا کر اپنا فرض ادا کرنا ہے۔ اور افطار کی صورت میں اس کو یہ تجربہ کرایا جاتا ہے کہ بہت جلد وہ وقت آنے والا ہے جبکہ اس کا خدا اس طرح کی قدردانی کرے گا کہ اس کو ابدی جنتوں میں داخل کر دے گا جہاں قسم کی لامحدود خوشیاں اور لذتیں بھی ہوں گی ، اور اسی کے ساتھ ان سے بہرہ مند ہونے کی مکمل آزادی بھی۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2000 All issues

Printed page